اعتراف
غلطیاں سب ہی سے ہوتی ہیں،خطا سے پاک کوئی بشر نہیں ،انسان غلطیوں سے تب ہی سیکھتا ہے ۔۔جب وہ اپنی غلطی کااعتراف،اقرار کرنا جانتا ہو،خطا کرنے سے زیادہ بڑا جُرم اعتراف نہ کرنا ہے۔۔۔۔ کیونکہ احساسِ ندامت تب ہی بیدار ہوتا ہے جب انسان کا ضمیر زندہ ہو،ضمیر اگر مردہ ہو جائے ،تو۔۔۔۔،آنکھوں کے باوجود اسے کچھ دیکھائی نہیں دیتا،کان ہوتے ہیں پر،کچھ سنائی نہیں دیتا،عقل،شعور کے ہوتے ہوئے بھی اسکا سیکھا ہوا علم و فہم اس کے کچھ کام نہیں آتا اور وہ گمراہی کے رستے پر چل نکلتا ہے۔۔۔، آج لوگوں کی اکثریت یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ غلط وہ بھی ہو سکتے ہیں ،خطا ان سے بھی ہو سکتی ہے،خطا کا اقرار اور اسکا اعتراف تو دور کی بات ہے جب پہلےوہ، اپنے غلط ہونے پر آمادہ تو ہوں۔۔۔۔،معاشرے میں زیادہ تر جھگڑے و رنجیشیں اس لیۓ طول پکڑتی ہیں کیونکہ سب اپنی ،اپنی جگہ خود کو صحیح و پرفیکٹ سمجھتے ہیں اگر غلطی مان کر معافی مانگ لی جاۓ ،معاف کر دیا جاۓ،تو کئی مسائل حل ہو جائیں،محبتیں برقرار رہیں، رشتے قائم رہیں،گھروں میں سکون،اور معاشرے میں امن رواں دواں رہے۔۔۔۔۔،،مگر ایسا ہوتا نہیں۔۔۔؟سوال یہ ہے ک...