کیوں نہ ایک اور سہی۔۔۔۔
اللہ نے جس کا حکم دیا وہ نقصان دہ کیسے ہو سکتا ہے اور جس کے کرنے سے منع کیا وہ فائدہ مند کیوں ہوگا ۔۔ اتنی سی بات ہم سمجھ نہیں پاتے جان کر بھی ہم وہ کام کرتے ہیں اور کر جاتے ہیں جس کی اس نے اجازت نہیں دی۔جب اس نے کہا رک جاؤ ٹھہر جاؤ آگے نہ بڑھو باز آ جاؤ پھر بھی اگر ہم یہ سوچ کر بڑھۓ ،اور بڑھتے ہی جارہے ہیں کہ سب ہی تو کرتے ہیں یا پھر یہ کہیں گناہ سے پاک ہم پہلے کب ہیں اور "نافرمانی گناہ بھی تو کرتے ہی ہیں تو پھر ایک اور سہی" تو یہ کیا ہے؟ کیا جانتےبوجھتے ہوئے بھی وہ نافرمانی کی جائے جس کا معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ نے منع کیا ہے اور جس کے کرنے سے وہ ناراض ہو گا تو ایسے گناہ کی تو شاید معافی بھی نہ ملے۔ معافی کے لئے بھی عاجزی ضروری ہے وہی معافی قابلِ قبول ہوتی ہے جب بندہ عاجز اور شرمسار ہو کر اس کی بارگاہ میں جھکے اور عرضی پیش کرے کہ یا باری تعالی غلطی ہوگئی۔ میں کمزور ہوں اپنے نفس کو روک نہ پایا مگر اب یہ عہد کرتا ہوں کہ دوبارہ نہیں ہوگا۔ لیکن اگر اکڑ میں ضد میں ہٹ دھرمی میں غلطی پر غلطی مسلسل کی جائے کہ سواۓ اسکے، اب کوئی چارہ نہیں ،د...