اشاعتیں

پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر۔۔ لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر۔۔

تصویر
 لوگ یہ اقرار تو کرتے ہیں کہ وہ خود کو جانتے ہیں مگر حقیقتاً اکثریت خود سے انجان ہےاپنی عادات ،مزاج، جذبات اور رویئوں سے  بے  خبر بس دوسروں کی ٹوہ میں رہتے اور اپنے سے زیادہ دوسروں کو جاننے  خصوصاً  منفی باتوں کو کُردینے اور پھیلانے میں زیادہ محو ہوتے ہیں اگر  وہ اس تلاش میں کامیاب ہوجائیں تو بلا سوچے سمجھے غلط مفروضے قائم کر لیتے،فتوی لگاتے، برے القابات سے  نوازتے ہیں اور دل دکھانے والی باتوں سے ذرا گریز نہیں کرتے۔   اگر ایسے لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ خود شناس ہیں تو وہ غلط کہتے ہیں اگر انسان وہ آئینہ دریافت کرلے  جس میں اسے اپنا عکس دیکھائی دینے لگے اور خود میں چھپے ہوئے وہ عیب تلاش کر لے جو اس سے بھی پوشیدہ ہیں تو وہ دوسروں کے عیبوں کو ڈھونڈنے والی مکھی نہ بنے، وہ مکھی جو اچھی چیزوں کو چھوڑ کر صرف زخم پر بیٹھتی ہے،بلکہ درگذر کرے۔  بقول بہادر شاہ ظفر  "نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر  رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر  پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر  تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا"  ڈال کر اوروں کے عیبوں پر پردہ اصلاحِ خود...