توقعات کا بوجھ۔۔۔۔۔۔
ہر انسان اپنی سوچ نظریات فلسفے عقائد اور تجربات کی بنیاد پر اپنے بنائے گئے ضابطے و قوائد کے تحت زندگی گذارتا ہے۔۔۔۔ یہ نظریات و فلسفہ اس کے سیکھے گئے علم مشاہدہ یا ماضی کے تجربات کے ذریعے اس کے ذہین کے پردے میں نقش ہو جاتے ہیں۔۔ اور اگر وہ چاہے کہ اس کے بنائے گئے قوانین و اصول کے تحت ہر انسان خصوصاً جس کا اس سے واسطہ پڑے وہ بھی زندگی گزارنے لگے تو ایسا نہ ممکن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے مزاج کے خلاف ،توقعات کا، پورا نہ ہونے پر آپ کا لوگوں سے روٹھنا،گلہ شکوہ شکایت کرنا کوئی معقول وجہ نہیں۔۔ انسانوں پر اپنے فیصلے زبردستی ٹھونسنے کا حق ہمیں ہرگز حاصل نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے اپنے علم مشاہدے و عقائد کے مطابق کسی کی رائے کو تسلیم یا اس کے اصولوں کو فولو کرنا یا نہ کرنا ہر شخص کا اپنا حق ہے۔۔۔ یہ بات جو انسان جتنا جلدی سمجھ لے وہ زیادہ خوش اور شکر گزار رہتا ہے۔۔۔۔۔ شکرگزاری وخوشی یہ ایسی چیزیں ہیں جسے حاصل ہوجائیں ترقی کامرانی و کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ شکوہ شکایت کی عادت انسان کو ناخوش رکھتی ہے ۔ اس کی نہ صرف کارکردگی متاثر ہوتی ہےبلک...