زندگی اداس کیوں ہے۔۔؟
کبھی تو زندگی اتنی سہل خوبصورت لگنے لگتی کہ ہر نظارہ دلکش و دلنشیں دیکھائی دیتا،تو کبھی نجانے کیوں اس قدر اداس،کھٹن کیوں محسوس ہوتی کہ دشوار لگنے لگتی۔۔۔۔ یقینا یہ ہمارےدل کی کیفیت ہمارے جذبات کا عکس ہوتی ہے جس کے مطابق زندگی ہمیں ویسی ہی محسوس ہو رہی ہوتی ہے جذبات مثبت تو زندگی خوشنما،پرسکون،اور جب خیالات تنگ ہوجائے تو زندگی اچانک تلخ ،بدنما ہوجاتی ہے۔کیا ہی نظارہ ہو اگر دل کی کیفیت نہ بدلے زندگی سے سکون نہ جائے ہمیشہ موسم بہار رہے ،کبھی خزاں نہ آئے ،قدم نہ ڈگمگائیں ،نظر نہ بھٹکے ،سکون بھی سلامت رہے، روح بھی امن پائے اور ہمیشہ کا قرار میسر آجائے۔۔ پرسکون زندگی اک خواب نہیں ایسا ممکن ہے تو کیا ہے وہ نسخہ جس پر عمل درآمد کریں زندگی کی تلخیاں کم ہوجائے قوت صبر میں اضافہ ،شکوے کم اور خوشیاں بڑھ جائیں تووہ نسخہ "شکر گزار بننا" اور "نا شکری" سے بچنا ہے۔ شکر خوشی اور سکون کا باعث جب کہ غم ناشکری کی سزا ہے، غم میں بھی اگر شکر گزاری کو اختیار کیا جائے تو کم لگنے لگتا ہے اور عجب راحت و سکون اس کا نصیب بنتا ہے ۔جوکھو کر بھی شکر نہ چھوڑ...