حیا ہی زندگی ہے۔۔
حیا معاشرے کا حسن ،زندگی کا سکون ایمان کی شاخ،اخلاق کا نچوڑ،اسلام کا نور،ربّ تعالی کا حکم ،معاشرتی وسماجی نکھار ہے۔ حیا کا لفظ حیات سے ہے یعنی حیا زندگی ہے دل کی اصلاح زندگیوں میں سنوار معاشرے کا امن حیا کہ بغیر ناممکن ہے۔ حیا ہی بے راہ روی اور بے حیائی سے روکتی ہے۔حیا نہ صرف لباس اور نظر میں بلکہ زندگی کے ہر عمل میں نظر آنے کا نام ہے۔ آج لوگوں میں گناہوں کی طرف حدسے بڑھتی ہوئی رغبتی کا سبب دلوں سے حیا کا رخصت ہو جانا ہے۔حیااتنی ہو باقی کہ جب دل اپنے رب کی نافرمانی کی طرف لپکے تو اس کے ڈر اور خوف کی وجہ سے لرز اٹھے اور پیچھے ہٹ جائے مگر کرکے گناہ اگر احساس ندامت اور شرمندگی بھی نہ ہو تو اس بات کی علامت ہے کہ ایمان بھی باقی نہ بچا ہے مومن کی شان حیا ہے۔ آپﷺکا فرمانِ عالی شان ہے"حیا جز وایمان ہے" آپﷺاپنی عملی زندگی میں بھی سب سے زیادہ شرم و حیا کے پیکر تھے۔آج ہمارے معاشرے کلچر اور ہماری روایت میں اسلام کی جھلک کم غیر مسلم معاشرے کی مشابہت زیادہ دکھائی دے رہی ہے۔ ہم جس ٹرینڈ،رواج ،فیشن کی پیروی میں لگے ہیں وہ ہمارے مذہب کے خلاف ہے۔ایک باحیا معاشرہ مسلم معاشرے...