مخلوق کی خاطر خالق ناراض نہ ہو
ہم اکثراس وقت ہارجاتے ہیں جب دو راستوں میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہو۔ اگر ایک رستہ رب کی رضا کا ہے اور دوسرے رستے کا انتخاب بندوں کو تو خوش کر سکتا ہے۔مگر رب ناراض ہوجائے تو مومن کا فریضہ ہے وہ اس راہ کا انتخاب کرے جو رب کی رضا کی طرف جاتا ہو۔ ہم اس غلط فہمی میں رہتے ہیں کہ اگر ہم نے رشتے ناراض اور تعلقات خراب کر دیے انہیں راضی رکھنے اور رشتوں کی بقا کے لیے چاہے کچھ بھی ہو کر لینا چاہیے مجبوری ہے اگر رب خفا ہو جائے تو اسے منا لیں گیں وہ رحیم ہے مان جائے گا حقوق العباد بھی عبادت ہے تعلقات نبھانا بھی ضروری ہے تو یہ سراسر منافقت ہے۔ ایک مومن کے لیے سب سے اہم اپنے رب کی اطاعت ہے نافرمانی میں ذلت ہے رسوائی ہے بربادی ہے تباہی ہے کسی بھی صورت ہم پر واجب نہیں کہ مخلوق کی خوشی کی خاطر خالق کی ناراضگی مول لی جائے ہاں مگر یہ اس کا وعدہ ہے اپنی اطاعت کرنے والوں کو وہ ہر گز تنہا نہیں چھوڑتا وہ راہ نکالتا ہے آپ اس پر بھروسہ کریں عمدہ اخلاق اورمثبت طرزِ انداز،سے اللہ کی مدد کے ساتھ وہ طریقہ اختیار کریں جس سے رب بھی ناراض نہ ہو اور رشتے بھی بچ جائیں۔ ...