کیا شکوہ ہمیں جچتا ہے؟
غم خوشی ،سکھ ،تکالیف و مصائب یہ سب زندگی کا حصہ ہیں زندگی نشیب و فراز کا مجموعہ ہے کبھی خوشی کبھی غم کبھی حالات سازگار تو کبھی نا ساز، اچھائی برائی بدی اور نیکی یہ جب تک دنیا ہے قائم رہے گا معاشرے سے بدی کم تو ہوسکتی ہے پر خالی نہیں ہو سکتی ہر دور میں ایسا ہوتا آرہا ہے کوئی شیطان کے حوالے اپنے نفس کو کر ڈالے گا تو کوئی اپنے رب کے لیے اپنے نفس کو ہی کچل ڈالے گااسی بنا پر تو دنیا امتحانِ جاہ ہے یہ آزمائش ہے ہمیں آزمایا جائے گا سب کچھ دے کر تو کبھی چھین کر کبھی زیادہ سے تو کبھی قلت سے کبھی بھوک سے کبھی فراوانی سے کبھی صحت سے تو کبھی وبا سے۔بس کمال یہ ہے اور کامیابی بھی تب ہی ہے جب انسان ثابت قدم رہےِ من چاہے حالات کے برخلاف بھی ناشکرا نہ بنے روئے پیٹے نہ واویلا نہ کرے،بلکہ صبر استقامت سے کام لے اور اپنا رجوع اس کی طرف اور بڑھا دے جو قادرِ مطلق ہے جس کے سامنے ہم بے بس ہیں جس کی چاہ پر ہمارے مقدر منحصر ہیں جس کی رضا ہی ہمارا اصل مقصد ہے۔۔ جس کی خوشنودی ہماری منزل ہے۔ مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ جب حالات ہمارے موافق ہوں سب کچھ عطا ہو۔۔ تب تو ہم بڑے خوش رہتے ہیں اور شکر بھی کرتے ...