خزانے کی چابی ۔۔۔۔
جہاں شکر ایک نعمت ہے اور اس کی وجہ سے ہمیں انگنت نعمتیں حاصل ہوتی ہیں۔ اسی طرح نا شکری( کفرانِ نعمت )ایک وبال ہے اور اس وبال کے سبب کئی مصیبتیں نازل ہوتی ہیں۔ جانے انجانے میں یہ "نا شکری" ہم سے کئی نعمتوں کو چھین رہی ہوتی ہے۔ بظاہر ہمیں اس کا اندازہ صرف تب ہی ہوتا ہے جب وہ نعمت ہم سے واپس لے لی جاتی ہے، ہمارا ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔ اور ہم اپنی کی گئی ناشکری کی اپنے رب کے حضور معافی مانگتے ہیں۔ اور اس کی نوازی گئی نعمتوں کو محسوس کرکےشکر ادا کرنے لگتے ہیں۔ ناشکری کا جو سب سے بڑا نقصان ہے جس کا ہمیں معلوم بھی نہیں ہوتا وہ ہمارے ایمان کا کم ہونا ،اس کی رحمت سے دوری اور اس کی یاد سے غفلت اور اس سے ربط و تعلق کا بگڑ جانا ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جو ساری نعمتوں سے بھاری ہے۔اگر یہ نعمت چھین لی جائے تو زندگی پھیکی اور بے معنی ہے۔ ہمیں خود پر غور کرنا چاہیے کہ جب کہیں ہمارا ربط خدا تعالی سے کمزور پڑنے لگے،دل خود ناشکری کی طرف راغب ہو اور شکر سے زبان خالی ہونے لگے اور اس کا ذکر زبان پر زیادہ دیرتک نہ ٹھہر سکے تو یہ نشانی ہے کہ وہ مہربان رب جس کی بے شمار نعمتیں اور فضل ہم پر ہر...