خزانے کی چابی ۔۔۔۔

 جہاں شکر ایک نعمت ہے اور اس کی وجہ سے ہمیں انگنت نعمتیں حاصل ہوتی ہیں۔ اسی طرح نا شکری( کفرانِ نعمت )ایک وبال ہے اور اس وبال کے سبب کئی  مصیبتیں نازل ہوتی ہیں۔ جانے انجانے میں یہ "نا شکری" ہم سے کئی نعمتوں کو چھین رہی ہوتی ہے۔ بظاہر ہمیں اس کا اندازہ صرف تب ہی ہوتا ہے جب وہ نعمت ہم سے واپس لے لی جاتی ہے، ہمارا ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔ اور ہم اپنی کی گئی ناشکری کی اپنے رب کے حضور معافی مانگتے ہیں۔ اور اس کی نوازی گئی نعمتوں کو محسوس  کرکےشکر ادا کرنے لگتے ہیں۔

 ناشکری کا جو سب سے بڑا نقصان ہے جس کا ہمیں معلوم بھی نہیں ہوتا وہ ہمارے ایمان کا کم ہونا ،اس کی رحمت سے دوری اور اس کی یاد سے غفلت اور اس سے ربط و تعلق کا بگڑ  جانا ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جو ساری نعمتوں سے بھاری ہے۔اگر یہ نعمت چھین لی جائے تو زندگی پھیکی اور بے معنی ہے۔ ہمیں خود پر غور کرنا چاہیے کہ جب کہیں ہمارا ربط خدا تعالی سے کمزور پڑنے لگے،دل خود ناشکری کی طرف راغب ہو اور شکر سے زبان خالی ہونے لگے اور اس کا ذکر زبان پر زیادہ دیرتک نہ ٹھہر سکے تو یہ نشانی ہے کہ وہ مہربان رب جس کی بے شمار نعمتیں اور فضل ہم پر ہر گھڑی بارش کی طرح برس رہا ہے، ہم نے اس کی ناقدری کرکے اسے خود سے دور کر لیا اسے ناراض کر دیا ہے۔

 شیطان کے ہتھیاروں میں سے ایک بڑا ہتھیار ناشکری بھی ہے جسے وہ آزماتا، اسکے زریعے بندوں کو گھیرتا اور باآسانی کامیاب ہو جاتا ہے کیونکہ یہ وہ گناہ ہے جو گناہوں کی جڑ ہے اس کی وجہ سے انسان مزید گناہ میں مبتلا ہوتا ہے،عبادتوں میں اخلاص رخصت ہوجاتا اور اپنے رب سے غافل ہو کر مقصدِ زندگی سے ہی ہٹ جاتا ہے۔ شکر بھی کوئی عام سی بات نہیں یہ عادت بھی صرف اسے ہی ملتی ہے جسے اللہ نوازناچاہتا ہے۔ اپنا کرم فضل و رحم فرماتا ہے۔  دونوں جہاں کی کامیابیاں اس کا نصیب بناتا،اور ڈھیڑوں سکون و طمانت سے اسکا دل بھر دیتا ہے

شکر نعمتِ خداوندی، خزانے کی چابی دل کا سکون اور رحمتِ خدا و ربِ کریم کا فضل ہے۔

 ایک شخص جس نے حضرت موسی علیہ السلام سے فریاد کی کہ آپ خدا تعالی سے میرے لئے یہ سفارش کریں کہ اس نے مجھے بے شمار مال و دولت دیا ہے جسے میں سنبھال نہیں پاتا، وہ تھوڑا کم کر لے، اللہ نے اس کی عرضی سنی تو کہا کہ اے موسیٰ اس سے کہو کہ وہ میرا شکر ادا کرنا چھوڑ دے میں اس سے ساری نعمتیں چھین لوں گا، وہ شخص یہ سن کر بولا اس نے مجھے  جب اتنی نعمتیں دی تو میں شکر ادا کیوں نہ کروں! چاہے کچھ ہو جاۓ میں  شکرکرنا نہیں چھوڑ سکتا، پس تیرا شکر نعمتوں کو گھٹنے نہیں دے گا ،بڑھتی ہی جاۓ گی۔کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے "تم شکر ادا کرو میں تمہیں اور دونگا"۔

 ہمیں جب معلوم ہے شکر نعمتوں کا دروازہ،خزانے کی چابی ہے پھر بھی ہم نا شکری کرکے خود پر مصیبتوں اور تنگیوں کو آواز دیتے ہیں۔ اور حاصل شدہ نعمت کی ناقدری کر کے اسے بھی گنوا بیٹھتے ہیں پریشانیاں،غم ،دکھ و تکالیف میں مبتلا ہوں تو صبر اوراس سے تعلق استوار کرنے اور منانے کے بجاۓ نا امید اور مایوس ہو جاتے اور گلے ،شکوہ ،شکایت و محرومی کا رونا روتے ہیں اللہ آزماتا ہے ،کبھی دے کر تو کبھی چھین کر ،کبھی سکون سے تو کبھی بے سکونی سے کبھی عطا سے تو کبھی محرومی سے ، جب نعمت ملی تو شکرِ حق ادا نہ کیا تو چھین جا نے پر واویلا کیسا،ہمارا فریضہ ہے کہ محرومی کی صورت میں بھی ثابت قدم رہیں زبان کو روکیں،دل کو بھی ناشکری سے بچائیں ،اسکی رضا کو اپنائیں ،دعا اور نماز کا سہارا لے کر اپنی پریشانیوں سے چھٹکارا پانے کی فریاد کریں۔شکر کی عادت بنائیں ،اپنی توجہ دسترس میں موجود ان بیش بہا خزانوں کی طرف لے کر جائیں جو ہم سے نیچے والوں کو حاصل نہیں،اور شکر بھی نہ صرف زبان سے ہو بلکہ دل اور ہمارا انگ انگ جذبہِ شکر سے تر ہو تب ہی اس چابی سے خزانے کے در کھلے گیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بے خوابی سے زیادہ سنگین اس سے متعلق پریشانی ہے۔۔؟

مہلت۔۔۔۔۔۔۔۔,

منزل نہیں ملے گی۔۔۔۔