پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر۔۔
لوگ یہ اقرار تو کرتے ہیں کہ وہ خود کو جانتے ہیں مگر حقیقتاً اکثریت خود سے انجان ہےاپنی عادات ،مزاج، جذبات اور رویئوں سے بے خبر بس دوسروں کی ٹوہ میں رہتے اور اپنے سے زیادہ دوسروں کو جاننے خصوصاً منفی باتوں کو کُردینے اور پھیلانے میں زیادہ محو ہوتے ہیں اگر وہ اس تلاش میں کامیاب ہوجائیں تو بلا سوچے سمجھے غلط مفروضے قائم کر لیتے،فتوی لگاتے، برے القابات سے نوازتے ہیں اور دل دکھانے والی باتوں سے ذرا گریز نہیں کرتے۔
اگر ایسے لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ خود شناس ہیں تو وہ غلط کہتے ہیں اگر انسان وہ آئینہ دریافت کرلے جس میں اسے اپنا عکس دیکھائی دینے لگے اور خود میں چھپے ہوئے وہ عیب تلاش کر لے جو اس سے بھی پوشیدہ ہیں تو وہ دوسروں کے عیبوں کو ڈھونڈنے والی مکھی نہ بنے، وہ مکھی جو اچھی چیزوں کو چھوڑ کر صرف زخم پر بیٹھتی ہے،بلکہ درگذر کرے۔
بقول بہادر شاہ ظفر
"نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر
رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر
تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا"
ڈال کر اوروں کے عیبوں پر پردہ اصلاحِ خودی کی فکر زیادہ کرے۔ غلطی ہر انسان سے ہو سکتی ہے خطا سے پاک کوئی بشر نہیں اور ضروری نہیں جو آپکو غلط لگے وہ واقعی غلط بھی ہو عقائد،نظریات،فلسفے اور فکری لحاظ سے زاویہِ نظر جداگانہ ہوسکتا ہے۔
معاشرے کا رواج بن چکا ہے کہ لوگ اچھائیوں کو چھوڑ کر برائیوں کی طرف جلدی راغب ہوتے ہیں ایک طرف تو لوگ اچھی باتوں کو سہراتے، حوصلہ افزائی بھی یقیناً کرتے ہیں جو کہ مثبت بات ہے مگر کبھی غلطی سے کچھ غلط محسوس ہو تو پھر وہی بالکل اخلاق سے عاری دیکھائی دینے لگتے اور ایسے کمنٹ پاس کرتے کہ لوگوں کے اس بے رحمانہ سلوک، اخلاقی صورتحال کو دیکھ کر دل افسردہ ھوجاتا یہاں تک کہ قابل معزز شخصیات کی بھی توہین سے ذرا باز نہ آتے غیر مہذبانہ رویہ اور زہرآلود ذبان کے تیر سے دلوں کو زخمی کرتے ،انکی نیک نیتی و خیر کے کاموں کو بھی رد کرکےاتنی جلدی فراموش کر ڈالتے،نہ صرف خود بد گمان ہوتے بلکہ بد گمانیاں بھی پھیلاتے ہیں۔
اختلاف منع نہیں ہے اختلافِ رائے کا حق بجا ہے جو کہ مزاج ،عادات ،نظریات اور رویئوں کے تبدیل ہونے پر ہو سکتا ہے۔ مگر اعتراض ان کے انتہائی ہتک آمیز الفاظ کے چناؤ پر ہے جو وہ استعمال کرتے اور اذیت کا باعث بنتے ہیں یہ جانے بنا کہ ہم مسلمان ہیں اور جس کی ہم دل آزاری کر رہے ہیں اس سے ہمارا دینی تعلق ہے قطع نظر اس سے وہ اخلاق سے بالکل گر جاتے مذہب ،تہذیب، روایات آداب بڑے چھوٹے کی تمیز سب بھلا بیٹھتے ہیں۔ بس خود کو حق جان کر دوسروں کو غلط ثابت کرنے پر ایسا تُل جاتے کہ اس کے لیے چاہے کچھ ہو جاۓ ہر حد توڑ ڈالتے ہیں۔ اصلاح کی خاطر یہ نہایت افسوس ناک حد تک معاشرے کے لوگوں کی خطرناک حالت ہے۔ یہ ہمارے دین میں نہیں ،مذہب میں اس کی اجازت ہرگز نہیں ہے، زبان کی حفاظت ایمان کی حفاظت ہے اس پر کنٹرول ضروری ہے کہ یہ کسی کو دکھ پہنچا نے ایذا رسانی کا سبب نہ بنے۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو سارے جہاں کے لیے رحمت اللعالمین ہیں جو اخلاق کے بلند ترین مرتبے پر فائز تھے جن کا اخلاق قرآن مجید ہے۔ انہوں نے اپنی جانی دشمنوں کے ساتھ بھی برتاؤ کر کے ِدکھلایا کہ ہمیں کیسا رویہ اختیار کرنا چاھیئے۔
آپ کا اندازِحوصلہ شکنی کسی کے ارادے پست کر سکتا ہے ،اُسے منزل سے بھٹکا کہ گمراہ کر سکتا ہے، ناامید کرکے اسے مثبت سوچ سے محروم اور بعض اوقات تو اچھائی کو خیر باد کر کے برائی کی جانب راغب کر ڈالتا ہے۔نیتوں کو جانے بنا کردار پر ہم فوراً شک کرنے لگتے ہیں۔ مقصدِ اصلاح کیلئے اگر غلط پہلو پر نظر ثانی کروانا ہو تو نہایت مہذبانہ طریقہ اپنائیں۔ نرمی،و شائستگی اختیار کریں ہمارے دین میں نرمی، کا حکم ہے بے وجہ ہی آگ بگولے نہ ہوں طنز و تنقید کے نشتر نہ چُھبوئیں نرم لہجوں میں اپنا مدعا بیان کریں۔ اچھے اخلاق کو اپنی زندگی بنائیں۔تاریخ گواہ ہے وہ قومیں معاشرے میں پنپ نہ سکیں جنہوں نے اپنے اخلاق کے معیار کو چھوڑ دیا۔
تمام برائیوں کی جڑ بداخلاقی ہے۔ اختلاف چاہے جتنا بھی ہو مگر دھیان رہے اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چُھوٹنے پاۓ اخلاق کی پستی انسان کو اشرف المخلوقات سے محروم کر کے حیوان بنادیتی ہے بہترین اخلاق ہی ایک مومن کی پہچان اور شان ہے ہمارے دین میں اخلاق کی درستگی پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے ایسا رویہ،اخلاق ہمیں نہیں جچتا جس سے کسی مسلمان کو تکلیف ہو ہمیں تو جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک روا رکھنے کا حکم ہے ہم اس نبیﷺ کی امت ہیں جن کے اخلاق کی تعریف رب نے خود کی کہ" بے شک آپؐ کے اخلاق بہترین اخلاق ہیں" آج معاشرہ عمدہ اخلاق سے محروم ہورہا ہے معاف کرنا مشکل اور بزدلی بن گیا اور بدلہ لینا بہادری سمجھاجا رہا ہے اللہ عزوجل ہمارے اخلاق کی درستگی فرمائے اور معاشرے کے لیے سود مند بنائے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں