کیوں نہ ایک اور سہی۔۔۔۔


 اللہ نے جس کا حکم دیا وہ  نقصان دہ کیسے ہو سکتا ہے اور جس کے کرنے سے منع کیا وہ فائدہ مند کیوں ہوگا ۔۔ اتنی سی بات ہم سمجھ نہیں پاتے جان کر بھی ہم وہ کام کرتے ہیں اور کر جاتے ہیں جس کی اس نے اجازت نہیں دی۔جب اس نے کہا رک جاؤ ٹھہر جاؤ آگے نہ بڑھو باز آ جاؤ پھر بھی اگر ہم یہ سوچ کر بڑھۓ ،اور بڑھتے ہی جارہے ہیں کہ سب ہی تو کرتے ہیں یا پھر یہ کہیں گناہ سے پاک ہم پہلے کب ہیں اور "نافرمانی گناہ بھی تو  کرتے ہی ہیں تو پھر ایک اور سہی" تو یہ کیا ہے؟ کیا جانتےبوجھتے ہوئے بھی  وہ نافرمانی کی جائے جس کا معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ  نے منع کیا ہے اور جس کے کرنے سے وہ ناراض ہو گا تو ایسے گناہ کی تو شاید معافی بھی نہ ملے۔ 

 معافی کے لئے بھی عاجزی ضروری ہے وہی معافی قابلِ قبول ہوتی ہے جب بندہ عاجز اور شرمسار ہو کر اس کی بارگاہ میں جھکے اور عرضی پیش کرے کہ یا باری تعالی غلطی ہوگئی۔ میں کمزور ہوں  اپنے نفس کو روک نہ پایا مگر اب یہ عہد کرتا ہوں کہ دوبارہ نہیں ہوگا۔ لیکن اگر  اکڑ میں ضد میں ہٹ دھرمی میں غلطی پر غلطی مسلسل کی جائے کہ سواۓ اسکے، اب کوئی چارہ نہیں ،دنیا کرتی ہے ہم بھی کرے تو کیا فرق پر جانا ہے تو یہ کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے ؟اور اس کا وبال بھی کیوں نہ پڑے گا ؟ 

ارشادِ ربانی ہے۔

" اور جو شخص اپنے سامنے ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی رسولؐ کی مخالفت کرے ،اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے ،اس کو ہم اسی راہ کے حوالے کردیں گے جو اس نے خود اپنائی ہے، اور اسے دوزخ میں جھونکیں گے ،اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے". (سورۃ النساء ۱۱۴)

جب تک لاعلم ہو بے خبری میں کرے تب تک شاید پھر بھی چھوٹ ہو مگر آگاہی کے در کھلنے پر بھی آنکھیں بند کر لےاور گناہوں پر گناہ ہوتا چلا جائے تو اس کا انجام کیا ہونا ہے، جس طرح چھوٹی چھوٹی نیکیوں سے بڑی نیکی کی توفیق ملتی ہے بالکل اسی طرح چھوٹےگناہ کی عادت اگر وقت پر کنٹرول نہ کی جاۓ تو انسان کو بڑے گناہوں کی طرف لے جاتی ہے اور تباہ و برباد کر ڈالتی ہے بعض اوقات تو انسان اس دلدل میں ایسا پھنستا ہے کہ توبہ کی توفیق بھی چھین لی جاتی ہے،  ضمیرمر جاتا ہے، غلط صحیح کی پہچان ختم ہو جاتی ہے ۔غلط کو صحیح ثابت کرنے کی دلیلوں میں الجھ کر اور مجبوری کا بہانہ بناکر آخرت کو ہی بھلا بیٹھتا ہے، شیطان یہ سوچ دے کر صغیرہ گناہوں میں مبتلا کرتا کہ عبادت اسے دھو ڈالے گی ،اور کبیرہ گناہ یوں کرواتا کہ کوئی بات نہیں توبہ کا در کھلا ہے۔

 اس پر ہماری یہ غفلت کے خدا رحیم ہے بخش دیتا ہے بے شک وہ کریم ہے ، رحیم ہے مگر منزل کا پتا جان کر سمتِ مخالف  چل کر خواہش ہو کہ، منزل تک پہنج جاۓ تو یہ کیونکر ممکن ہے،  کسی چھوٹی نیکی یا معمولی گناہ کو بھی ہرگز کم تر نہ سمجھو کیا پتا کونسی نیکی وہ قبول کر لے اور کس پر پکڑکر لے ، وہ  بخشنے پر آئے تو نیت بھی قبول کر کے بخش دے، اگر حساب لینے پر آیا توزبردست حساب لینے والا اور جلال والا ہے۔ اس کا فضل اور کرم ہی ہمیں بچا سکتا ہے ہماری اوقات نہیں کہ اپنے اعمال پر بخش دیئے جائیں۔ ہمیں اس کی پکڑ سے ڈرنا ہے جہنم ،عذاب اور سزا کا خوف کرنا،اس کی ناراضگی اور نافرمانی سے بچتے رہنا ہے۔ بجائے اس کے کہ ہم اس کا ڈر کھودیں، حساب کتاب،سزا،جزا بھلا دیں، بے خوف ہو جائیں، مزید نافرمانیاں کرتے چلے جائیں کہ پارسا نہیں ہیں چھوڑنا ہے تو سب چھوڑ دیں،اگر نہیں تو یہ بھی سہی۔گناہ سے بچنا ،خود کو جتنا ہو سکے بچانا ہے،قرآن کریم میں رب تعالی نے متعدد مقامات پر اس سے ڈرتے رہنے کا حکم دیا ہے تاکہ ہم گناہ نہ کریں اس کا خوف  ہمیں ایساکرنے نہ دے۔ ناکہ مزید کرے۔

 جب بھی دو راستے کا انتخاب کرنا ہو تو وہ راستہ چھوڑ دے ،جو اس کی مرضی کے خلاف جاتا ہو  چاہے وہ کتنا ہی دل کش خوشنما اور نفع بخش ہی کیوں نہ لگے، وہ شیطان کا رستہ ہے۔ وہ فائدہ مند کبھی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ زیادہ تر جو ہمیں نظر آرہا ہوتا ہے وہ اصل میں ہوتا نہیں،ہماری بصیرت اور عقل اس کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

 بس ہمیں اس کی اطاعت میں بے بس نہیں ہونا اور نافرمانی پر مجبور نہیں بننا، جو کہا اسے  کرنا ہے جو منع کیا اس سے رک جانا ہے اور اگر کبھی انجانے میں نفس ہار جائے تو معافی مانگنے اور جھکنے میں  دیر نہیں کرنی۔ خوفِ خدا کی کمی، گناہوں کی زیادتی کا سبب بنتی ہے اور کثرتِ گناہ کی وجہ سےایمان بھی رخصت ہو جاتا ہے، اللہ عزوجل ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور مزید قوت ایمانی عطا فرمائے آمین۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بے خوابی سے زیادہ سنگین اس سے متعلق پریشانی ہے۔۔؟

مہلت۔۔۔۔۔۔۔۔,

منزل نہیں ملے گی۔۔۔۔