یومِ عرفہ کے فضائل

 تمام مہینوں میں سب سے عظمت حرمت والا مہینہ ذلحجہ ہے، اور ذلحجہ کے عشروں میں سے فضیلت والا عشرہ،اس ماہ کا اوّل عشرہ ،اور اس عشرۓ مبارک کےدس دنوں میں، سب سے افضل بابرکت حرمت والا دن عرفہ یعنی 9 ذی الحجہ ہے۔

اسلامی سال کا آخری مہینہ" ماہِ ذی الحج" کے مضامین میں یہ مضمون"یوم عرفہ کے فضائل" خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

 یوم عرفہ کی قسم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 قرآن کریم میں اللہ عزوجل نے عرفہ کے دن کی قسم کھائی ہے، کائنات کا حقیقی بادشاہ جو طاقت اور اقتدار کا اکیلا مالک ہے، سب کو بنانے اور پالنے والا، جس شےکی قسم کھالے،اس کی فضیلت فرضیت واہمیت کے ممتاز ہونے میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔

 سورۃ الفجر کی ابتدائی آیات میں ارشادِ ربّانی ہے" قسم ہے فجر کے وقت کی، اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی"۔

 مذکورہ آیات میں جفت سے مراد دس ذوالحجہ کا دن ہے، جو کہ جفت ہے، اور طاق سے مراد عرفہ کا دن ہے،جو نو ذلحجہ کو آتا ہے (آسان ترجمہ قرآن)

یوم عرفہ حرمت والا دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 عرفہ کا دن حرمت والا محترم دن ہے، حضرت ابو امامہ باہلیؓ فرماتے ہیں نبی کریمؐ نے  عرفہ کے دن حجۃ الوداع کے موقع پر جب صحابہ کرامؓ سے دریافت کیا:یہ کون سا دن ہے؟ صحابہ کرامؓ نے جواب دیا: یہ عرفہ کا محترم حرمت والا دن ہے۔ آپؐ نے پھر دریافت کیا؟ یہ کون سا مہینہ ہے؟ صحابہ کرامؓ نے جواب دیا: حرمت والا محترم مہینہ( ذی الحجہ) ہے، آپؐ نے پھر دریافت کیا؟ یہ کون سا شہر ہے؟صحابہ کرامؓ نے فرمایا: حرمت والا محترم شہر( مکہ مکرمہ) ہے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا" بے شک تمہارے مال اور تمہاری عزتیں اور تمہاری جانیں ایک دوسرے پر اسی طرح محترم ہیں جیسے تمہارا دن ،تمہارا یہ مہینہ اور تمہارا یہ شہر محترم ہے( طبرانی کبیر7632)

 دینِ اسلام کی تکمیل کا دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 قرآن مجید کی ایک سورت میں اللہ سبحانہ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔

آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونےپر رضامند ہوگیا۔

 حضرت عمرؓ فرماتے ہیں"مجھے اس دن اور جگہ کا بھی علم ہے، جب یہ آیت نبی کریمؐ پر نازل ہوئی وہ جمعے کا دن تھا اور نبی کریمؐ عرفہ میں تھے۔(ترمذی:3043)

عید کا دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 اگرچہ مسلمانوں کے لئے مذہبی تہوار یعنی عید کے صرف دو دن ہی ہیں۔ عرفہ کے دن کو عید سے تشبیہ دینے کی اہم وجہ اس دن اللہ کی رحمت کا نزول انعام و اکرام کی بہتات ہوتی ہے، جہنم اور عذاب سے خلاصی ،بخشش کے پروانے بکثرت دیے جاتے ہیں، اور یہ دن دینِ اسلام کی تکمیل کا دن بھی ہے، اس لیے ہم مسلمانانِ دین کے لئے،" یوم عرفہ" باعثِ خوشی و مسرت کا دن "عیدکے دن" کی طرح ہے۔ حضرت عقبہ بن عامرؓ، نبی کریمؐ کا یہ ارشاد نقل فرماتے ہیں۔"عرفہ یعنی (9 ذی الحجہ) یوم النحر (یعنی دس ذی الحجہ) اور ایّام التشریق (یعنی گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ) یہ سب مسلمانوں کے عید کے ایّام ہیں اور کھانے پینے کے دن ہیں( ترمذی773)

جہنم سے آزادی کا دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 نبی کریمؐ کاارشادہے" کوئی دن ایسا نہیں جس میں عرفہ کے دن سے زیادہ اللہ تعالی بندوں کو جہنم سے آزاد کرتے ہوں( یعنی سب سے زیادہ عرفہ کے دن اللہ تعالی لوگوں کی گردنیں جہنم سے آزاد کرتے ہیں) اور بیشک اللہ تعالی بندوں کے قریب آتے ہیں، پھر بندوں کے بارے میں فرشتوں پر فخر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ بندے کیا چاہتے ہیں؟( مسلم1348)

 رحمت اور مغفرتِ الہی کا دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 حضرت جابرؓ،نبی کریمؐ کا یہ ارشاد نقل فرماتے ہیں" عرفہ کے دن اللہ تعالی آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے یعنی رحمت کے ساتھ قریب ہوتا ہے، اور پھر فرشتوں کے سامنے بندوں پر فخر کرتا ہے، اور فرماتا ہے"یہ میرے بندوں کی طرف تو دیکھو، یہ میرے پاس پرا گندا بال، گرد آلود اور لبیک وذکر کے ساتھ آوازیں بلند کرتے ہوئے دور دور سے آئے ہیں، میں تمہیں اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا ،یہ سن کر فرشتے کہتے ہیں کہ پروردگار ان میں فلاں شخص وہ بھی ہے، جس کی طرف گناہ کی نسبت کی جاتی ہے، اور فلاں شخص اور فلاں عورت بھی (جو گناہ گار ہیں) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ" میں نے انہیں بھی بخش دیا "۔(مشکوۃ المصابیح2601)

شیطان کے ذلیل و خوار ہونے کا دن۔۔۔۔۔۔۔

 حضرت طلحہ بن عبداللہ بن کَریزؓ،نبی کریم ؐ کایہ ارشاد بیان فرماتے ہیں "عرفہ کے دن کے مقابلے میں کوئی دن ایسا نہیں، جس میں شیطان اتنا زیادہ ذلیل ،دتھکارا ہوا ،حقیر اور غصے سے بھرا ہوا نظر آئے کیونکہ وہ عرفہ کے دن اللہ تعالی کی رحمت کے نزول ،اور بڑے بڑے گناہوں کی معافی دیکھتا ہے، ہاں صرف  غزوہ بدر کے دن نظر آیا تھا اس لئے کہ اس نے حضرت جبرائیلؑ کو دیکھا تھا کہ وہ ملائکہ کو (کفار کے مقابلے میں) تقسیم کر رہے تھے۔(مٔوطامالک:1461)

صومِ عرفہ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 دو سال کے گناہوں کا کفارہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 حضرت سہل بن سعدؓ ،نبی کریمؐ کایہ ارشاد نقل فرماتے ہیں" جس نے عرفہ کے دن روزہ رکھا اس کے مسلسل دو سال کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔( طبرانی کبیر5923)

 ایک اور روایت میں حضرت ابو قتادہؓ نبی کریمؐ کا یہ ارشاد فرماتے ہیں" مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ رکھنا ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے صغیرہ گناہوں کو مٹا دے۔ 

 اب ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس دن کے ان گنت فضائل سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کی پوری لگن سے تگ ودو کریں، تا کہ اپنے مالک کے نوازے جانے والے انعامات و اکرام کی برسات کے کچھ قطرے ہم پر بھی پڑجائیں،اللہ ہم سب سے راضی ہو ۔

آمین

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بے خوابی سے زیادہ سنگین اس سے متعلق پریشانی ہے۔۔؟

مہلت۔۔۔۔۔۔۔۔,

منزل نہیں ملے گی۔۔۔۔