اپنی کامیابی کو رب کی مہربانی جانیں ۔۔۔
انسان کو جب نت نئی نعمتیں، دولت، آسائشیں،، ہر طرح کا چین وسکھ اور ڈھیروں آسانیاں نصیب ہو جائے تو وہ اسےاللہ کا کرم و فضل سمجھنے کے بجائے اپنی خوبیوں و قابلیت کا حاصل سمجھنے لگتا ِِاِتراتااورفخر شروع کردیتا ہے ایسے لوگ جنہیں اگر اُس جیسی نعمتیں وآسانیاں میسر نہیں یا کسی وجہ سے کسی مشکل و پریشانی میں مبتلا ہوں تو انہیں ان کی نااہلیوں اور خامیوں کا سبب سمجھتا اور بعض اوقات انھیں انکی محرومی کا طعنہ دینے لگتا ہے۔۔۔
انسان جو کہ فطرتاً ناشکرا ہے شکر کم ہی کرتا ہے اس کی عطا اور دین کو اپنا حق اور خود کو بڑا قابل و معتبر جان کر بڑے بڑے دعوے کرتا دوسروں کو ان کی کم مائیگی کا احساس دلاتا پھرتا اور خود کو کامیابی کے قابل افلاطون سمجھ کر ناز کرتا ہے۔۔۔یہ سچ ہے کہ انسان اپنے حالات کا کافی حد تک خود ذمہ دار ہوتا ہے،اسکی زندگی اسکے خیالات،نظریات،و رویئے کا عکس ہوتی ہے مگر تقدیر کا فیصلہ کبھی اختیار سے بڑھ کہ بھی ہوتا ہے۔۔
بغیر اس کی چاہ کے کچھ بھی ممکن نہیں، یہ اُس کا ارادہ ہے،، جسے چاہے نواز دے اور جسے چاہے محروم رکھے۔۔۔۔ ہم اس کی رضا کے محتاج ہیں فرمان الہی ہے" تم چاہ بھی نہیں سکتے اگر اللہ نہ چاہے" کبھی وہ دے کر آزماتا ہے تو کبھی لے کر بھی امتحان لیتا ہے یہ اُس کے فیصلے ہیں انسان کو چاہیےکہ وہ ہر وقت عاجز اور اس سے ڈرتے رہے اس کے کرم و فضل و رحم کا سوال ہر گھڑی کرتے رہے اسے کچھ بھی حاصل ہو وہ اگر اس کی محنتوں کوشیشوں و خیر کے کاموں کا پھل ہے بھی تو اس توفیق کو بھی، بجائے اپنی عقل وصلاحیت کے اس کے کرم کی نوازش سمجھے ۔۔ اور کبھی بھی کسی کو کمتر نہ جانے،یہ آنکھوں کا بڑا گناہ ہے جس کی پکڑشدید ہے، ، کسی کواس کے معمولی یا نا اہل ہونے پر حقیر سمجھنے کی اجازت ہرگز نہیں ہے۔۔۔
اسے قابلِ ترس ورحم و قابلِِ اصلاح تو ضرور سمجھا جاسکتا ہے مگر اس کی توہین کا حق کسی کو حاصل نہیں ۔۔ کیونکہ آپ کو نہیں خبر۔۔ ، اگر اللہ چاہے تو اس کی زندگی میں وہ انقلاب لے آئے کہ وہ آپ کو اور آپ کی قابلیت کو بھی میلوں دور پیچھے چھوڑ دے ، کبھی تھوڑی سی محنت کا حاصل سمندر ہوتا ہے، تو کبھی عمر بھر کی محنتوں کا نتیجہ بھی صفر ہو جاتا ہے۔۔۔
آپ یہ تو جانتے ہوں گے کہ مشکلات انسان کو عظیم بنا دیتی ہیں مصائب و تکالیف صرف نا اہلی کا سبب ہی نہیں بلکہ آزمائش اور امتحان بھی ہو سکتا ہے۔۔مشکلات و مسائل کبھی خدا اس لیے بھی بھیجتا ہے کہ وہ انسان کو اس کے ذریعے مزید مضبوط و توانا بنانا اور نکھارنا چاہتا ہے،تاکہ وہ مزید اُران بھرسکے جتنے بھی عظیم اور تاریخ ساز لوگ تھے وہ سب اپنےآرام و چین کے دنوں میں عظیم نہیں بنے تکالیف و مشکلات اور شکوک کے طوفانوں سے گزرے مقابلہ کیا طاقتور بنے یہاں تک کہ نہ صرف خود کو بدلا بلکہ اپنے ساتھ کئی زندگیاں بدل گئے ریسرچ کہتی ہے جو لوگ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوتے ہیں ان میں سے بہت کم لوگ ہی دنیا میں کوئی خاطر خواں مقام حاصل کرتے ہیں اور کچھ غیر معمولی کر پاتے ہیں۔
جبکہ وہ لوگ جو تکالیف و مشکلات کی بھٹی سے بُھن کر نکلے ہوں وہ زیادہ تر لوگ غیر معمولی ہوتے اور غیر معمولی زندگی جیتے ہیں۔لہذا اہم نقطعہ یہ ہے کہ کبھی بھی دوسروں کو پریشانی،و مصائب میں دیکھ کر اسکا سبب اسے اسکے گناہوں کا وبال ،نہ گمان کرنے لگیں اور اسے حقیر نہ سمجھنے لگیں اور اپنے پاس موجود ہر دستیاب وسائل کو اسکی رحمت، کرم وفضل کا نتیجہ جانیں اور شکر لازماً کرتے رہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں