مفہومِ زندگی ۔۔
" قدرت کی طرف سے عطا کردہ زندگی مختصر ہے
لیکن اچھی طرح گزاری گئی زندگی کی یاد لامتناہی ہے" (سیسیرو")
زندگی سب گزار رہیں ہے۔اور یہ گزر ہی جانی ہے۔۔چاہے خوشی سے گذرے یا حالات کا رونا روتے ہوۓ، اطاعتِ ربانی میں یا اسکی نافرمانی میں ۔۔۔ اپنے مخصوص اوقات جو ہر انسان اس دنیا میں لے کر آیا ہے اس کے پورا ہوتے ہی مزید مہلت اسے نہیں ملنی، زندگی ختم ہو جاۓ گی۔۔اصل غفلت ہماری اپنی زندگی اور اس کے قیمتی اوقات سے ناقدری ،وقت کا صحیح استعمال اور اس کے اصل مفہوم سے بے خبری ہے۔ زندگی کے مفہوم سے جو آشنا ہو جاۓ، وہ اپنے ملے گیے محدود اوقات کوبا مقصد و با معنی گزارتا ہے،اور ایسے تمام کاموں سے بچتا ہے، جو اس کےقیمتی لمحات کو نگل جائیں،اسے اپنے مقصد سے دور کردیں اور وقت کی ایسے قدر کرتا ہے، جیسے اس کے یہ لمحات آخری ہوں،۔۔۔۔اور نہ جانے کب اس سے لے لیے جائیں۔
یہ حقیقت ہے کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں۔۔۔ اس کی کوئی خاص عمر کوئی حد کوئی جگہ طے شدہ نہیں ۔۔جب جس کے پاس آنی ہو آکر رہتی ہے۔۔۔ مگر افسوس ہم زندگی کو بنا مقصد، غیر اہم کاموں میں ایسے گزار دیتے ہیں جیسے زندگی ہمیشہ رہنی ہے اس قدر وقت کے ضیاع پر کوئی ملال بھی نہیں ہوتا۔۔۔موت اٹل ہے یہ جانتے بوجھتے بھی اس کی کوئی تیاری نہیں۔۔۔۔ اصل مقصد زندگی صرف کاٹنا نہیں۔۔۔ بلکہ جینا ہے ایسے جینا ،جو کہ جینے کا اصل حق ہے، جس سے دونوں جہاں میں خوشیاں اور کامیابیاں ہمارا مقدر بن سکے۔۔۔۔ ایسی زندگی جیئں جس سے ہم دنیا کواپنا نام،اچھی یاد دےسکیں۔اور یہ عہد کریں کہ جانا تو ہے پر،دنیا کو کچھ دے کر،کچھ کرکے جانا ہے۔۔۔۔
ہمارے رہنما اور تمام تاریخ ساز عظیم تخلیق کار لوگ جو زندگی ایسے جئے کہ دنیا سے سالوں پہلے چلے جانے کے بعد بھی وہ نہ جا سکے، یعنی وہ دنیا سے تو گئے مگر ان کی یاد دلوں سے تاریخ سے نہ مٹ سکی کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جو زندگی گزارنے کا اصل راز پا گئے تھے مفہومِ زندگی جان گۓ تھے یہ سارے کے سارے خودشناس اپنی خودی تک رسائی حاصل کر گۓ تھے۔۔ خود میں چھپے صلاحیتوں کے ذخائر کو نہ صرف دریافت کیا بلکہ اسے کمال مہارت تک پہنچانے کے لیے انتھک محنت و مشقت کی۔۔ راہ میں حائل مصیبتوں رکاوٹوں اور مشکلوں سے نہ گھبرائے۔۔۔۔ ثابت قدمی اور مستقل مزاجی سے مقابلہ کیا، اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹے ۔ وہ غیر معمولی بنے اور غیر معمولی جئے اور انسانیت کے لۓ فائدے مند بنے، اور ایسے کام کر گۓجو رہتی دنیا تک جاری رہے،جس کی وجہ سے انکا نام انکی یاد کبھی نہ مٹ سکا، جبکہ اس کے برعکس وہ لوگ جو اپنی صحت دولت وساکھ میں کافی ڈیل ڈول تھے وہ صرف اپنے نفس کے غلام اور اپنی خواہشوں کو پورا کرنے اور ہر آسائش و آرام حاصل کرنے کے چکر میں ایسا پڑے اور اپنے اوقات کو ظاہری شان و شوکت کے حصول میں گنوایا۔۔صرف اپنے لیے جیے اپنی ذات سے کسی کو فائدہ نہ دے سکے وہ گمنامی کی زندگی جئے اور گمنام ہی مر گئے۔۔۔
خود سے سوال کریں کہ آپ کیسی زندگی چاہتے ہیں۔۔۔؟ نام چاہتے ہیں غیر معمولی بننا چاہتے ہیں یا گمنام ہی رہنا چاہتے ہیں۔۔؟ یہ تو طے ہے صرف اپنے لئے جینا اپنی فائدے کی حد تک خود کو محدود رکھنا ایسی زندگی گزارنے سے غیر معمولی زندگی،اور مرنے کے بعد بھی زندہ رہنے کا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔۔ خدا تک پہنچنے کا راستہ اس کی مخلوق سے ہو کر گزرتا ہے،، اس کی مخلوق سے محبت خدا سے محبت ہے۔ اللہ سبحانہ تعالی کو اپنے بندوں سے بے پناہ پیار ہے تب ہی اس نے اپنے بندوں پر خرچ کیےجانے والے زکواۃ ،فطرات و صدقات کا اجر بڑھا کر کئی گنا کر دیا ۔جس کے دل میں انسانیت کا درد محبت اور ہمدردی کا جذبہ ہو وہی خدا سےمحبت کا اصلی حقدار ہے۔
اپنے کام اور اپنی ذات سے دوسروں کو فائدہ دیں ،کیونکہ جو دوسروں کے لئے کارآمد ہو انہیں آسانی سے نہیں بھلایا جاتا ۔ خدا تعالی کے نزدیک بھی وہ معتبر ہوتا ہے جو شخص دوسروں کو نفع د ینے والا ہو۔ جو اپنی زندگی کے مقصد اوراپنے اوقات کے استعمال سے ہی لاتعلق اور اسے ضائع کررہاہو۔۔۔وہ فائدہ کیسے دے سکتا ہے۔۔؟ لہذا فائدہ بھی وہی پہنچا سکتا ہے جو مفہومِ زندگی سے ،اپنی خودی ،صلاحیت و قابلیت سے اور اسکے استعمال سے آشنا ہو۔۔۔لہذا اسے کھوجیں دریافت کریں ،پھراسے کمالِ مہارت تک پہنچا کہ اس سے، دنیا کو ساری انسانیت کو فائدہ دیں اپنے کام سے اپنا نام اور اپنی یاد دیں۔دنیا کواپنے کام کی پہچان دیں۔ یہ تب ہی ممکن ہوگا جب آپ اپنے اوقات کی قدر کریں گیں۔۔۔
وقت کی قدر زندگی کی قدر ہے، مقصد کا تعین اور وقت کی قدر انسان کو منزل تک پہنچاتا ہے، مقصد خالق و مالک کی خوشنودی،۔۔۔۔اور منزل کامیاب آخرت ہے۔۔۔ ،انسان آخرت کی مخلوق ہے۔۔۔ ا صل کامیابی بڑی منزل میں کامیابی یے ۔۔۔۔اور یہ اُسے ہی حاصل ہوگی جو اپنے وقت اور اپنی مہارت کو اسکی رضا کے مطابق گزارے گا۔ زندگی ایسی گزرے کہ۔۔۔۔۔۔جب لینا والا، زندگی واپس لے تو شان سے جائیں ،کوئی پچتھاوا کوئی ملال نہ ہو۔۔۔۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں