خالی پن۔۔۔۔
ہم انسان کی یہ فطرت ہے کہ ہم بہت زیادہ کی طلب میں گرفتار ہمیشہ بھرے ہوئے رہنا چاہتے ہیں۔ خالی ہونا ہمیں نہیں پسند اور لفظ خالی سے بھی ہم چڑتےاور بھاگتے نظرآتے ہیں جبکہ ہمیشہ بھرا رہنا ہی فائدہ مند نہیں ہوتا خالی بھی گوہر ہےاشفاق احمد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ "جیسے بھری ہوئی چیز کا مقام ہےخالی بھی ویسی ہی اہمیت کا حامل ہے ". جو فوائد اسکی وجہ سے ہمیں نصیب ہوسکتے ہیں اس پر اگرغور کیا جائے تو خالی کی قدرو قیمت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
وجود کا خالی پن اکثر انسان کو خود احتسابی کی طرف مائل کرتا اپنے رب سے ربط پیدا کرتا اور اس تعلق کو استوار کرتا ہے۔ انسان کا ضمیر بھی اکیلے پن تنہائی میں ہی جا گتا، ملامت کرتا اور اس کی برائیوں وکوتاہیوں سے اسے خبردار کرتا ہے۔ خود شناسی بھی اسی خالی پن کی وجہ سے ممکن ہوتی ہے جب تک انسان تنہا نہیں ہوتاوہ اپنے آپ سے بھی نہیں مل پاتا،غرض تنہائی ہی اسے اپنے آپ سے روشناس کرواتی اور اسےآگاہی دیتی ہےجھگڑے بھی تب ہی اور زیادہ طول پکڑتے ہیں جب انسان اپنی خطاؤں پر نظر ثانی کے لۓ اکیلے میں اپنے رویئوں پر غور نہیں کرتا۔ مسائل کا حل بھی غور و فکر کے بغیر ممکن نہیں۔ سیکھنے کے لئے بھی انسان کا خالی ہونا ضروری ہے جو جگہ پہلے سے پر ہو وہاں مزید کیا ٹھہرے گا دل کی پاکیزگی کے لیے بھی ماضی کے برے جذبات سے دل کو خالی کرنا پڑتا ہے نئے اور روشن خیالات کی تشریف آوری بھی اسی صورت میں ممکن ہے جب پہلے سے موجودہ منفی تصورات اپنی جگہ چھوڑ دے۔
ہم انسان کی زندگی آج یوں ہوگئی کہ ہم اب اکیلے نہیں رہے خود کے لئے بھی اب دو گھڑی وقت نہیں بہت مصروف ہوگئے ٹیکنالوجی انٹرنیٹ سیل فون کی سہولیات جو ہمیں مہیا ہیں اس سے ہم ایسا چمٹے کہ اپنےرشتوں سے بھی قریب نہ رہے۔ ایک چھت کے نیچے رہنے والے ایک دوسرے کے مسائل سے بے خبر مگر دنیا کے حالات سے باخبر جانکاری پر فخر محسوس کرتے ہیں۔۔ بقول قاسم علی شاہ صاحب" ٹیکنالوجی نے انسان کو سب سے زیادہ تنہا کیا ہے" تنہائی بھی ایسی کے خود اپنے وجود سے بھی بیگانگی اپنے مقصدِ تخلیق سے نا آشنائی،اپنی منزل سے لاپرواہی۔
غرض وہ خالی پن بھی بدرجہاں بہتر ہے جو سوچ دے ایسی کہ انسان خود پر غور کرے اپنے مقصد کو سوچے اپنے وجود کو پہچانے وہ کیوں ہے اور کہاں جانا ہے اسکا رب اس سےکیا چاہتا ہے کیوں دنیا میں بھیجا اور واپسی کہاں ہے کیا ہے اس کی منزل،کونسی سچی راہ ہے سکون سے وہ کیوں دور ہے اور اصل قرار کہاں ہے اس راز کو کھوجیں جو اللہ نے اس کے اندر رکھ ڈالا ہے زندگی کے اصل مفہوم سے آشنا ہو انسان کی اصل حقیقت کو سمجھیں زندگی گزر رہی ہے گزر جائے گی اس سے پہلے کہ ہمیں مٹا دے ہمارا نشان ہٹا دے اپنی پہچان بنائیں اپنا نام بنائیں اپنی زندگی کو بامعنی اور بامقصد بنائیں اپنے خیالات اور عادات سنوارےاپنی شخصیت کو نکھارئیں اپنی ذات کے خزانے کو دریافت کریں اپنے شوق کو پالیں۔ بقول اقبال خود میں ڈوب اور پا جا سراغِ زندگی۔
قرآن کریم میں کئی مقامات پر اللہ ہمیں غور و فکر اور تدبّر کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ ہم اپنے رب کی کبریائی وعظمت کو دل سے مانے اس کے آگے جھکنے اور اطاعت کو اپنا مقصد بنالیں اور اپنی اصل عظمت جو کہ ایک مومن کی پہچان ہے سے واقف ہوجائیں تمام مخلوقات میں انسان وہ واحد مخلوق ہے جو اپنی عقل ،صلاحیت و محنت کو استعمال کرکے اپنی زندگی وحالات کو بہترین کر سکتا ہےاور ایسا تب تک ممکن نہیں جب تک وہ اپنی ذات کے خلا کو محسوس کرکے اسکی وجہ اور اس کا سدِباب تلاش نہیں کر لیتا۔ لہذا اس کے لیے خالی ہو کر کچھ وقت اکیلے میں اپنے ساتھ گزارنا ضروری ہے یہ راز تب ہی عیاں ہوں گیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں