کورونا سےخوفزدہ، پر رب سے بے خوف
کورونا وائرس کا خوف جو سب پر طاری ہےاس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر بھی کی جارہی ہیں جو کہ لازماً ضروری ہے مگر اس وائرس کا بھی قادر ہم سب کا رب جس کے حضور ہمیں ایک دن پیش ہونا ہے اس کی نہ کوئی تیاری،فکر نہ اسکی ناراضگی سے بچنے کی کوئی احتیاط،کوئی تدبیر۔
ہمارا رب ہم سے ناراض ہیں اس کی ہمیں پرواہ ہے نہ کوئی غم،ڈر ہے تو اس وائرس کا، مگر اپنے گناہوں اور نافرمانیوں کا کوئی ڈر نہیں۔جب وہ ناراض ہو تو وبائیں بھیجتا ہے۔اس وائرس سے موت کا خطرہ کم مگر اچانک کسی بھی لمحے موت کے آجانے کا خطرہ سو فیصد ہے۔ موت اٹل ہے ہر ذی جان کو اس کا مزہ چکھنا ہے آج نہیں تو کل آئے گی ضرور ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے" تم جہاں بھی ہو گے( ایک نا ایک دن )موت تمہیں جا پکڑے گی چاہے تم مضبوط قلعوں میں کیوں نہ رہ رہے ہو"کیا ہم تیار ہیں اتنا حوصلہ ہے کہ اس کے سامنے شرمندہ نہ ہوں اپنے اعمالوں کا حساب دے سکیں۔ نیکی کی قبولیت بے شک اسکے اختیار میں مگر ہماری یہ کوشیش جاری تو ہو۔
ہم کیوں غافل ہوگئے کیوں دور ہو گئے ایسے پیارے رحیم رب کے نافرمان بن گئے۔ رسول اکرم صلی وسلم نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ "اگر میرا بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب آتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں، وہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب آتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں" ۔گناہ سے بچنا اگر بس میں نہیں تو گناہ کا اقرار توکریں، اس کے حکموں کو توڑنے کا اعتراف تو کریں اپنی نافرمانی اور بے راہ روی پر ماتم تو کریں۔ مگر خدارا ناجائز کو جائز وحرام کو حلال نہ کہیں۔ اپنی غلطیوں،کوتاہیوں کو وقت و حالات کا تقاضا ،فیشن یامجبوری کا نام تو نہ دیں۔ضمیر کو سونے نہ دیں، اسے کرنے دیں ملامت،اسے خود کوجگانے دیں،غلط کو غلط توسمجھیں ۔وہ رحیم ہے گناہ سے بچنے کی توفیق اور نیکی کی قوت و استقامت کا اس سے سوال تو کریں۔ اپنی طرف بڑھنے والوں کو وہ گرنے نہیں دیتا۔ مگر شرط ہے کہ گناہوں کے دلدل سے خود کو بچانے کی فکر تو کریں۔ اس کے غضب سے بے خوف نہ ہوں ، اس کی ناراضگی سے ڈریں، نافرمانی پر نہ ملنے والی سزا اور ڈھیل کو اپنی مہلت اور اس کا کرم سمجھیں،اس کے غضب اور غصے کو آواز نہ دیں، اس کی حد سے تجاوز نہ کریں۔ تاریخ گواہ ہے، جب قومیں حد سے بڑھیں، بے خوف ہو گئیں نڈر بن گئیں، اس کے حکموں کو توڑا نافرمانی کو اپنی خوشی بنا لیا۔ جن کاموں سے کہا رک جاؤ تو نہ روکیں، جن کے کرنے کا حکم ہوا اس سے منکر ہو گئیں۔ اپنی من مانیوں کی انتہا کر دی۔ تو پھر کیا ہؤا؟ برباد ہو گئیں نیست و نابود کر دی گئیں۔ کسی کو زمینوں میں دھنسایا، کسی کو سمندر میں ڈبودیا،کسی پر پتھر تو کسی پر آگ برسی،تو ہولناک چیخ کسی قوم کی موت کا سبب بنی، مگر ان کا نام و نشان مٹا دیا گیا،دھرتی کو گناہوں ،بدکاروں نافرمانوں سے پاک وصاف کر دیا گیا، دنیا بھی گئی آخرت بھی تباہ ہو گئی خسارہ ہی خسارہ گھاٹے کا سودا۔
قرار اس کی اطاعت میں ہے نافرمانی میں تباہی ہے ، بربادی ہے، رسوائی ہے۔ ہم کب سمجھیں گے، ہم کب مانیں گے، ، وہ غفور ہے کریم ہے رحیم ہے وہ معاف کر دے گا مگر اس وقت جب توبہ سچی ہو۔ لیکن اگر گناہ کو گناہ ہی نہ سمجھا جائے تو کیا وہ حساب نہیں لے گا۔ نیکی اور بدی کیا سب برابر ہے۔ کیا حلال حرام جائز ناجائز حیا اور بے حیائی اطاعت ،نافرمانی سب یکساں ہے۔آج گناہ بھی عزت و شان سمجھ کر کیا جارہا ہے روکنے اور احساس دلانے والے کو دقیانوسی،تنگ نظر کہا جاتا ہے۔
ایک ایسی وباجس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر بے بس کردیا جس نے ثابت کردیا کہ قادر مطلق سب کا خالق ایک ہے جس کے حکم کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں جس کی طاقت بھی کامل قدرت بھی کامل،علم بھی حکمت بھی کامل،جس کے قبضے میں ہماری جان ہے، جسکی اطاعت ہماری کامیابی اور ذلت وناکامی اسکی نافرمانی ہے۔
مگر افسوس صد افسوس یہ سب جان کر مان کر بھی ہم نہ سنبھلے،سچی توبہ نہ کی نافرمانی نہ چھوڑی،اس کےعذاب سے ، حساب سے ،غضب سے، جلال سے خوفزدہ نہ ہوئے۔ بگڑے ہوئے معاملات، اور بگڑی عادتوں کو سدھارا نہیں، اس کے حکموں کو اپنے عمل میں اتارا نہیں،۔
جب گناہوں پر روح بے سکون نہ ہو ناراضگی کا احساس اور توبہ کی طرف دل مائل نہ ہو تو لمحہ فکریہ ہے اس کا ڈر اور خوف جو ایمان کی نشانی ہے رخصت ہو چلا ہے۔ اللہ عزوجل ہمارے ایمان اور اس کے خوف کو دلوں میں ہمارے قائم دائم رکھے۔
آمین
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں