کامیابی یا ناکامی ذمہ دار آپ خود۔۔۔۔
" ہر شخص کی قسمت اس کے اپنے ہاتھ میں ہے، جیسے ایک مجسمہ ساز جو چاہے، مٹی سے تراش دے۔۔۔۔
البتہ اس مٹی کو جو وہ بنانا چاہتا ہے، اس میں تراشنے کی مہارت اسے سیکھنا اور استعمال کرنا پڑے گی(جوہانن وولف گنگ وون گوئٹے)
ایک شخص جس کا معمول ہے، صبح دیر سے بیدار ہونا اور رات دیر تک فضولیات و لغویات میں بےمقصد مشغول رہنا،وقت کی قدر نہیں، تب ہی معاملاتِ زندگی کے اصول وضع نہیں ہیں، مقصد متعین ہے نہ سمت کاپتا، خودی سے بے خبر،منزل سے نا آشنا بس موڈمیں اپنےچلتا جا رہا ہے، وقت کا تیز رفتارپہیہ قیمتی زندگی کےایام کچلے جا رہا ہے،
کامیابی کا خواہشمندیہ یقیناً ہے،حالات کے بدلنےاوروسائل کی دستیابی کاانتظاراسے ہر دم بے چین رکھتا ہے، لیکن خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں اپنی سست طبیعت اور آرام پسندی کی عادت نے اس کی نظر میں کامیابی کا حصول خواب بنا ڈالا ہے۔ خواب بھی ایسا جس کی تعبیر پانے کا نہ اسے شوق ہے نہ جذبہ اور نہ ہی کوئی کوشیش،بس شکایت ہی شکایت ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایسا شخص کبھی کامیاب ہو سکتا ہے۔۔۔؟ کیا کبھی وسائل اس کی دسترس میں اور حالات اس کے بس میں ہو سکتے ہیں۔۔۔۔؟کیا اس کا خام خیالی خواب حقیقت کا روپ دھاڑ سکتا ہے۔۔۔۔؟یا بغیر محنتوں و قربانی کے یہ کامیاب نتائج پا سکتا ہے۔۔۔؟
ہرگزنہیں !ایسا شخص اپنی رکاوٹ کا الزام دوسروں پر لادکرخود کو بری الذمہ رکھنا چاہتا ہے، لیکن آنے والے کئی برس بھی اگر، زندگی اسے مہلت دے تو وہ ایسا ہی کرتا رہے گا، کیونکہ "نہ ہوخیال جسے اپنا حال بدلنے کا،نصیب اس کا پھر بدلا نہیں کرتا"، انسان کو بنانے والا اسکا خالق اللہ عزوجل فرماتا ہے جسکا مفہوم ہے "انسان کو صرف وہی کچھ ملتا ہے جس کے لیے وہ سعی کرتا ہے" جب کوشش،محنت، عزم نہیں تو ادھوری خواہش بے معنی ہے، انسان کو اسی لیے اشرف المخلوقات کا درجہ دیاگیا کیونکہ وہ اپنی کوشیشوں سے اپنا نصیب بنابھی سکتا ہے اور چاہے تو اپنی خامیوں سے بگاڑ بھی سکتا ہے،
یقین ،عزم، کوشش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب سے پہلے کامیابی پر یہ یقین لازم ہو کہ کامیاب ہونے والے ہر شخص کے پاس نہ تو کوئی طلسماتی چھڑی ہوتی ہے اور نہ تو وہ کوئی ماروائی مخلوق ہوتے ہیں،نہ وقت ان کے پاس عام انسانوں سےزیادہ ہوتا ہے،نہ میسر انھیں طاقت کا خزانہ ہوتا ہےاور نہ وسائل کی ریل پیل اور دشواریوں سے پاک راہیں ہوتی ہیں، ہاں لیکن ایک چیز جو ان کے پاس سب سے منفرد ہوتی اور انھیں ممتاز بناتی ہےوہ انکا جنون ہوتا ہے "کامیابی حاصل کرنے کا جنون"جو انہیں پرخطر راہوں سے ثابت قدمی سے گزر جانے کا حوصلہ فراہم کرتا ہے تھکاتا نہیں ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ انکا جوش بڑھتا جاتا ہے۔
کامیابی کی تعریف۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی بھی شخص اس دنیا میں کامیاب نہیں پیدا ہوتا ، کامیابی حاصل کرنا پڑتی ہے، اوراسکے لئے سب سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے نزدیک کامیابی کیا ہے۔۔؟ کامیابی کا معیار ہر شخص کے لئے اسکے نظریات کے مطابق الگ ہوتا ہے،عموماً جس کے پاس جو نہ ہو اس کا حصول اس کے لئے کامیابی بن جاتا ہے، کوئی عزت، دولت ،شہرت کا دلدادہ اسی میں اپنی کامیابی سمجھتا ہے، تو کوئی خودی کے سفر میں چلتے ہوئے مالک کی معرفت تک رسائی چاہتاہے، قرب الہی رب سے تعلق، اطاعت،بندگی وخوشنودگی کا حصول اس کے نزدیک مفہومِ کامیابی ہوتا ہے، اور یہی حقیقی کامیابی ہے۔لہذا جو بھی کامیابی آپکا مقصد ہو، پہلے اپنی طلب کو سچا کرکے عزم پکاکرلیں،کیونکہ اس کے بغیر کوششوں میں استقامت نہیں رہتی اور استقامت کے ساتھ کی گئی محنت کامیابی کی ضامن ہوتی ہیں، پختہ عزم والے لوگ وہ ہوتے ہیں، جس گھڑی سب نیند کے مزے لوٹ رہے ہوتے ہیں،انکے عزائم اور انکی کوششیں انھیں اس وقت بھی جگاۓرکھتی ہیں،ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ بغیرطلب ومحنت کے حاصل ہوجانے والی کامیابی بھی ناکامی میں بدل جایا کرتی ہے۔
حائل رکاوٹیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسا بالکل نہیں ہے کہ کامیاب لوگوں کی راہیں رکاوٹ سے مبرا ہوتی ہیں، مشکلات آتی ہیں، تکلیفیں اٹھانا پڑتی ہے مگر یہ رکاوٹیں راستہ روکنے کے بجائے ان کی کوششوں کو مزید تیز کر کے طوفانوں سے نمٹنے کا حوصلہ فراہم کر کے مقابلے کی ہمت عطا کر دیتی ہیں، نتیجاً وہ اپنے وسائل خود تلاش کر لیتے، پلاننگ کرتے، ترجیحات طے کرتے، طاقت توانائی اوروقت کا بھرپور استعمال کرتے، صلاحیتیں پیدا کرتے،مہارتیں سیکھتے، اپنا آپ سنوارتے، کردارنکھارتے اور ہر دن بہترسےبہترین کرتے ہوۓ اپنی مرضی کے حالات خود بنا لیتے ہیں۔ تو گویا یہ ثابت ہوا کہ انہیں کامیابی کی منزل تک پہنچانے والی ان میں موجود غیر معمولی صفات ان کی عادات ہوتی ہیں۔
اچھی عادات کا فروغ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نپولین ہل نے دنیا کے سات سو کامیاب لوگوں پر ریسرچ کر کے انکی مؤثرعادات کو یکجا کرکے ایک کتاب
" Think and grow rich" لکھ ڈالی جس میں اس نے بتایا کہ ان تمام شخصیات کی کامیابی کی اصل وجہ سب میں موجود انکی غیر معمولی مشترکہ عادات کا پایا جانا تھا۔ اگرچہ ہماری سوچ کے مطابق ہمارے نظریات، روئیۓ، عمل اور عادات ہوتی ہیں اورعادتیں ہماری شخصیت کا حصہ بن کر ہمارا کردار بناتی ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں کامیاب یا ناکام بنانے میں باقی سارے عوامل میں سے بڑا عامل جو رکاوٹ بنتا ہے یا تحریک دیتا ہے وہ ہماری عادات وصفات ہیں۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ اگر آپ واقعی کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اپنی عادات پر کام کرنا ہوگا۔اس کے لیۓ آپ کو کامیاب لوگوں کی خوبی کو اپنانا ہے اورساتھ ہی اپنی خامی پر قابو پاناہے۔ اپنی سوچ پر محنت کرنا اور تنگ سوچیں فرسودہ نظریات،منفی خیالات اور وہ عادات جنہوں نے آپ کو اب تک ناکام رکھا، انہیں خود سے باہر نکالنا ہے
عادت میں تبدیلی مشکل بغیر ناممکن نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے معاشرے میں ناکامی کا گراف اس لیے بھی بلند تر ہے کیونکہ لوگ آرام طلب ہو چکے ہیں اپنے کمفرٹ زون سے باہر نہیں آنا چاہتے، اپنی عادات میں تبدیلی کے لئے تیار نہیں ہیں، یا طلب ہی نہیں ہے،عادات میں بدلاؤ اگرچہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن ہرگز نہیں ہے مقصد اگرواضح اور منزل متعین ہو تو خدا نے اسے اتنی طاقت دی ہے کہ انسان اپنے مقصد کے حصول کے لیے ہر خطرے سے گزر جانے کا حوصلہ رکھتا ہے، المیہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا غلط اور بے جا استعمال انہیں اپنے مقصد سے غافل کررہا ہے، وقت،توانائی،اور وسائل کی قدر نہیں اسی لئے احساسِ زیاں پر انھیں ملامت نہیں ہوتا۔ ایک اور چیز جو ہماری عادتوں کو تبدیل کرنے میں رکاوٹ کا باعث بنتی اور مایوس کردیتی ہے،وہ انھیں ایک دم سے تبدیل کرنا ہے، جبکہ کوئی بھی کام جادو سے فوری نہیں ہوتا، پہلے پلاننگ پھر اسکےحصے کر کے تھوڑا تھوڑا مسلسل کام کرتے رہنے سے متاثر کن نتائج حاصل ہوتے ہیں، اور ثابت قدمی قائم رہتی ہے، سالوں سے بگڑی عادتیں اپنے معمول پر آنے میں وقت لے گی،جلد یا بدیرمحنتیں رنگ لائے گی۔
وہ عادات جوآپکو کامیاب بنادے۔۔۔۔۔۔
"انسان میں موجود اس کی خوبی، صلاحیت ،مہارت آگے بڑھ جانے کا پختہ یقین اسے کامیاب بناتا ہے اور اس کے لئے جو تیار نہیں ہوتا وہ ناکام رہ جاتا ہے" ہل ایلرولڈ جو کتابThe miracle morning کے مصنف ہیں، 2007 یا2008 میں جس وقت دنیا کی اکانومی کریش ہوئی، تب انہیں بھی اپنے کاروبار میں شدید خسارے کا سامنا کرنا پڑا، وہ کئی ہزار ڈالر کے مقروض ہو گئے یہاں تک کہ ان کا مکان بھی گروی رکھے جانے والا تھا، مایوسی کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہ تھا اس سنگین صورتحال کو سوچ سوچ کر وہ اداس اور بیمار رہنے لگے، پھر اپنے ایک قریبی دوست کی تجویز پر انہوں نے خود کو ان حالات سے باہر نکالنے کے لئے کامیاب لوگوں کی زندگیوں، عادات، نظریات اور اندازِطریقت پر تحقیقات شروع کردی،اور آخرکارطویل مطالعے و ریسرچ کے بعد انہوں نے کامیاب لوگوں کی ایسی چھ عادت دریافت کرلی، جو انہیں کامیابی کی منازل تک پہنچا سکتی تھی، اور ساتھ ہی ان پر عمل بھی شروع کردیا، اور حیران کن بات یہ ہے کہ ان چھ معجزاتی کام شروع کرنے کے صرف دو مہینے بعد ہی انہوں نے اپنا سارا قرضہ واپس کر دیا، سب کچھ ٹھیک ہو گیا اور کاروبار بھی اپنی جگہ پر واپس آگیا، اور انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ اپنے نصیب کےقصور وار زیادہ تر ہم ہی ہوتے ہیں۔ کامیابی پانے کے بعدہل ایلرولڈ نے اپنی ایک کتابThe miracle morning پیش کی جس میں انہوں نے یہ چھ معجزاتی کام تحریر کردیے جس کے تحت روز صبح کا آغاز کرنے سے ان کی زندگی میں کامیابی کی بہاریں واپس لوٹ آئی تھی۔
معجزاتی چھ کام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصنف نےایک مخفف وضع کرکے ان کاموں کو آسان بنا دیا جسے وہ سیورسSAVERSکہتے ہیں جسکی وضاحت مندرجہ ذیل ہیں۔
حرفS'................
اس کا مطلب silence یعنی خاموشی ہے۔ جس کے لیے انہوں نے عبادت یا مراقبہ تجویز کیا ہے الحمد اللہ بحیثیت مسلمان عبادت ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہے اور اسے احسن طریقے سے بخوبی نبھانے سے اس کے حیران کن معجزاتی انوارات و ثمرات ہماری روحانی و جسمانی شخصیات کا حصہ خود بخود بن جاتے ہیں،جبکہ مراقبے کے فوائد کو حاصل کرنے کے لئے مائنڈ فل میڈیٹیشن بھی کیاجا سکتا ہے۔ ریسرچ کے مطابق انسانی دماغ میں ایک منٹ میں کئی ہزار خیالات جنم لیتے ہیں اور یہ خیالات منفی بھی ہو سکتے ہیں جو ہماری کامیابی کا راستہ روکتے ہیں لہٰذا غیر ضروری خیالوں کے ہجوم کےکنٹرول کا بہترین ذریعہ میڈیٹیشن ہے۔ یہ آپ کو قوت دیتی اور سوچ کو منظم کرتی ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی خاموش جگہ بیٹھ جائیے اور اپنے موبائل پر پانچ منٹ کا ٹائمر لگا دیجیۓ پھر اس پانچ منٹ کے دوران کچھ نہ سوچیئے، بس اپنی توجہ سانس پررکھیئے شروع میں خیالات آئیں گے انہیں آنے دیں۔اس طرح اس کی مسلسل مشق سے رفتہ رفتہ آپ کو اس کی عادت ہوجاۓ گی۔
حرف"A"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Savers میں دوسرا حرف A ہے۔یعنی Affirmation.
آفرمیشن وہ موثر جملہ ہوتا ہے جو ہم اپنے آپ سے دہراتے ہیں۔ سائنس یہ مانتی ہے کہ انسان کو دنیا کے بہترین موٹیویشنل لیکچر سے اتنا فائدہ نہیں پہنچتا جتنا خود کے ساتھ مثبت گفتگو کرنے سے اسے حاصل ہوتا ہے، خود کو مثبت رکھنے کے لئے ضروری ہے خود سے مثبت گفتگو ہو مثال کے طور پر" میں ہار نہیں مانتا" میں روز تھوڑا تھوڑا کرکے اپنے مقصد کی طرف بڑھ رہا ہوں ،میں اپنے وقت اور وسائل کا موثر استعمال کرتا ہوں ،میں اپنی ناکامیوں سے سیکھتا اور اپنی مہارت کو مزید بڑھانے کی مسلسل مشق کرتا ہوں اور اپنی خامیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے مسلسل جہد میں رہتا ہوں۔ مصنف کے مطابق اس طرح کے مثبت جملے اپنی آئیڈیل لائف کے بارے میں، ایک کاغذ پر(present tense)میں لکھ لیجئے، پھر پورے شوق وجذبے کے ساتھ وہ عبارت روز مراقبے کے بعد پڑھیں۔ کیونکہ انسان جو کچھ بار بار دہراتا، سنتا اور دیکھتا ہے لا آف اٹریکشن کے تحت وہی حقیقت میں اسے حاصل ہونے لگ جاتا ہے۔ ربِ تعالی نے اسی لیے شکر کا حکم اور شکوے سے دور رہنے کا حکم دیا کیونکہ شکرگزاری کا احساس خود کے ساتھ مثبت رہنا ہے۔
حرفV۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
savers کا تیسرا حرفv ہے،یعنیvisualization( تصور نگاری)۔ مصنف کہتا ہے پانچ منٹ کے لیے اپنی بہترین مثالی زندگی کا تصور کرکے اس کے بارے میں سوچیں، تصور کریں جو زندگی آپ جی رہے ہیں وہ آپ کی "من پسند آئیڈیل" زندگی ہے۔ لوگوں کی اکثریت اس عمل کو فضول احمقانہ مانتی ہے، جبکہ بھروسہ ،یقین ،امید اسی کا نام ہے۔ ایسا کرنے سے آپ کے یقین کو طاقت ملے گی آپ کو اپنے مقصد کے لئے متحرک کرکے آپکی کوشیشوں کی رفتار بڑھا دے گی۔ پھر آپکی کامیابی کی راہ میں حائل کوئی بھی رکاوٹ آپ کو رستے سے ہٹنے نہیں دے گی۔ دنیا کے تمام کامیاب ترین لوگوں میں یہ خوبی یکساں موجود ہوتی ہے وہ اپنے مقصد کے حصول میں بہترین تصور نگار ہوتے ہیں جس کی بنا پر ان کی تصور نگاری حقیقت کی جگہ لے لیتی ہے۔
حرفE۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Exercise چوتھا حرف یعنی ورزشE
ورزش exercise کی اہمیت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے دماغی و جسمانی فوائد سے کِسے انکار ہو سکتا ہے۔ ورزش کرن سے نہ صرف جسم مضبوط اور توانا ہوتا ہے بلکہ اس کے ذریعے آپ صحت مند رہتے اور کم بیمار پڑتے ہیں دن بھر کے کاموں کے لیے یہ آپکو چاق وچوبند رکھتی ہے۔ خود اعتمادی میں اضافہ کرتی،اور ساتھ خیالات بھی کنٹرول میں رہتے ہیں۔ غرض کے ورزش کے انگنت فائدے ہیں۔ اسے اپنی روٹین میں شامل کیجیے،ہفتے میں چار دن روزانہ 30 منٹ کی ورزش ایک عام صحت مند آدمی کے لیے کافی ہے۔
حرفR۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پانچواں حرف Rہے۔ اس کا مطلب ہے readingیعنی مطالعہ ۔ سوچ و خیالات کو صحت مندرکھنااور ذہنی پختگی حاصل کرنا،ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ اوریہ اچھی کتاب کے مطالعے سے ممکن ہو سکتا ہے۔ سوچ کے بندتالے کھولنے کا مؤثر ذریعہ مطالعہ ہے۔ ریسرچ کے مطابق اچھے خیالات ہمیں انرجی فراہم کرتے ہیں۔ اور کتاب اچھے خیالات کا ماخذ ہوتی ہے۔ لہذا مطالعے کی عادت اپنائیںےاور چند صفحات روز پڑھنے کا معمول بنائیے۔ بلاشبہ قرآن مجید ایک بہترین ہدایتِ کتاب ہے۔ اس لئے روز اس کے مطالعہ کا ہمارا رب ہمیں حکم دیتا ہے۔ خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ اس میں کامیابی کی اصل تعریف زندگی گزارنے، مقصد کو پانے، اور راہ راست پر رہنے کے اصول واضح کر دیے گئے ہیں، جس سے روح کو طمانیت ملتی ہے جو اسے مضبوطی سے تھام لیتا ہے اور اپنے ہر عمل کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے وہ موٹیویٹ رہتا اور
بالآخرفلاح پا جاتا ہے۔
حرفS۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھٹا آخری حرف Sہے یعنی Scribing (یاداشتی تحریر)اس کے لئے ایک رجسٹر اپنے پاس رکھیں اور روز کے ان کاموں کی لسٹ بنائیں جو آپ کو کرنے ہیں اور ساتھ ہی دن کے مختلف اوقات میں، مختلف کاموں کے بارے میں جو کچھ آپ محسوس کرتے ہیں وہ لکھنا شروع کردیں، ساتھ ہی اپنی ان خامیوں کی تلاش شروع کردیں ،جو آپ کو اب تک کامیاب نہیں ہونے دے رہی،نیز اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے لائحہ عمل تیار کیجئے اور دن کے اختتام پرروز سونے سے قبل پورے دن کا تجزیہ کیجئے اور اگلے دن کے کاموں کی فہرست رات کو ہی تیار کر لیجئے، یوں آپ اپنے پورے دن کے کاموں کو کہیں بہتر طور پر دیکھنے اور نمٹانے کے قابل ہو سکیں گے۔
یہ وہ عادات (کام)ہیں جنہیں اگر آپ اختیار کرنے کا تہیہ کر لیتے ہیں اور اپنے دن کا آغازبھرپور انداز میں ان کے مطابق کرتے ہیں تو چند ہی دنوں میں آپ کی زندگیوں میں غیر معمولی تبدیلیاں آنا شروع ہو جائیں گی اور ایک وقت آئے گا جب کامیابی آپ کا مقدر بن جاۓ گی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں