بُرائی کا طعنہ۔۔۔۔۔

 آج بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں زیادہ تر لوگوں کا مزاج کچھ ایسا ہےکہ وہ اپنی اصلاح کی طرف کم ہی توجہ دیتے ہیں۔۔لوگوں کی اچھائیوں کو بمشکل ہضم،مگر خامیوں کو اُچھالنے کا ہنر خاص رکھتے ہیں، مسئلہ تب اور  زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے ‏جب انسان خود کو اپنی نگاہ میں بھلااور دوسروں کو بُرا سمجھنے لگے۔ ہر شخص اپنے جذبات تجربات اور اپنی سوچ و نظریات کے لحاظ سے دوسروں سے مختلف ہوتا ہے یہ تضاد فطری ہے مگر انسان دنیا کو اپنے جیسا دیکھنے اپنے جیسا بنانے کا اتنا خواہش مند نظر آتا ہے کہ دوسروں کی ٹوہ میں، اصلاحِ خودی کو  ہی نظرانداز کر بیٹھتا ہے۔ 

نتیجاً دوسروں کے عیب تو دیکھائی دیتے ہیں اسے،مگر خود کے عیب نہیں دِکھتے، اپنےبناۓ گئے اصول اور ضابطے کو  اولین جانتا اور دوسروں کو حقیر گردانتا ہے،، خود کو تبدیل کرنے کے بجائے دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی چاہ رکھتا ہے، چھوٹے چھوٹے مسئلوں کو درگزر کرنے،لوگوں کو معاف کرنے کے بجائے جھگڑوں کو طول دینے،اپنی زیادتیوں کا فوراً بدلہ لینے  کی سازیشوں اور ہر وقت کسی نہ کسی بہانے سے دوسروں کی ٹانگ کھینچنے کا موقع تلاش کرنے میں مشغول رہتا ہے۔۔ یہاں تک کہ لوگوں کو ان  کی غلطیوں، کوتاہیوں اور گناہوں کا طعنہ دینے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ۔۔

 وہ یہ بات بالکل بھول جاتا ہے کہ اگر انسان اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے توبہ کر چکا  ہو تو وہ گناہوں سے پاک کر دیا جاتا ہے کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے" اور میں توبہ قبول کرنے کا خوگر ہوں بڑا رحمت والا"۔ اپنی طرف پلٹنے والوں کو وہ عزیز رکھتا ہے،توبہ اگر سچی ہو تو وہ گناہوں کو نہ صرف مٹا دیتا بلکہ انہیں نیکیوں میں بدل ڈالتا ہے، مگر انسان کو جب بھی اور جیسے ہی موقع ملے اسے ،اس کی برائی کاطعنہ دے کر بقول اسکے ،اُسے یاد دہانی کروا کہ سبق سیکھانا، اپنا اولین فرض و حق سمجھتا ہے۔۔ ایک حدیث جس کا مفہوم ہے،، کوئی کسی مسلمان کو برائی کا طعنہ دے تو وہ شخص اس وقت تک نہیں مرے گا،جب تک کہ وہ خود اس میں مبتلا نہ ہو جاۓ،،

لہذا اس موضوع کا اہم مقصد لوگوں کو اس مفہوم، کی جانب متوجہ کرنا تھا۔۔۔۔،کہ وہ کبھی بھی کسی کو اُسکی برائی،گناہ کا طعنہ نہ دیں، کیونکہ ممکن ہے وہ تو توبہ کرکے بچ جاۓ مگر، آپ  پکڑ میں نہ آجائیں۔۔۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بے خوابی سے زیادہ سنگین اس سے متعلق پریشانی ہے۔۔؟

مہلت۔۔۔۔۔۔۔۔,

منزل نہیں ملے گی۔۔۔۔