کامیابی ضرور آپ کی ہوگی۔۔۔
سب کی طرح ،پہلےمیرا بھی یہی فلسفہ تھا کہ سارے تاریخ ساز اور غیر معمولی عظیم لوگ پیدائشی طورپر انتہائی ذہین،، اعلٰیٰ فطرت،، عظیم تخلیق کار،، خاص صلاحیت و دیگر لاتعداد خوبیوں کا مجوعہ ہوتے ہیں۔۔ تب ہی وہ شاندار کامیابی حاصل کرتے اور غیر معمولی زندگی جیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر جب ایسے لوگوں کی زندگیوں پر میں نے غور کیا تو میرا فلسفہ یکسر غلط ثابت ہوا۔۔ تحقیق کہتی ہے کہ ہر فرد ہی عظیم بن سکتا ہے اور اپنے کام میں بغیر کسی خاص ذہانت کے کمالِ مہارت حاصل کر سکتا ہے،بشرطِ ہے کہ وہ محنتی،، اپنے کام سے خاص لگاؤ و شوق رکھتا ہو۔۔۔ اور مزید بہتری و کمال حاصل کرنے کا خواہشمند ہو۔۔۔۔ اور اس کے لیے روز اپنے کام کی مشق وکوششوں میں سرگرم رہتا ہو۔۔۔ اور راہ میں حائل بڑی سی بڑی رکاوٹوں کو کچل کر آگے بڑھ جانے کا ہنر جانتا ہوں۔۔معروف فلسفی فریڈریخ نائزی کے یہ الفاظ جو بڑے معنی خیز ہیں" کہ خدا داد قابلیت ،، پیدائشی خوبی کی بات نہ کرو،، ایسے عظیم لوگوں کے نام گنوائے جا سکتے ہیں جن کے پاس بہت کم قابلیت تھی۔۔ لیکن انہوں نے عظمت حاصل کی، وہ ذہین بنے۔"
مسلسل اور لگاتار محنت، ہمت صبرو استقامت اور اپنے کام میں جُت جانے ،ُ، اور مقصد کو حاصل کرنے کی چاہ کے ساتھ انسان آگے سے آگےبڑھتے ہی چلا جاتا ہے ۔۔۔راستہ کتنا ہی پرکٹھن اور دشوار کیوں نہ ہو ،محنت کا صلہ ضرور پاتا ہے اور بالاخر اک دن منزل تک پہنچ ہی جاتا ہے۔۔۔ لیکن اگر کوئی یہ سوچ کے ابتدائی ایام میں ہی ہمت ہار بیٹھے اور محنت ترک کر دے کہ محنتوں کا حاصل صفر ہے تو در حقیقت ایسا شخص عظمت کا لائق و اصل حق دار نہیں۔۔
عظمت کی بلندی تک پہنچنے کے لیے محنت میں کنجوسی ناجائز ہے ۔کیونکہ۔۔۔ ،،عظمت بے تحاشا محنت،مشق ،لگن، قربانی و مشقت مانگتی ہے،، بہت سے ایسے تاریخ سازوں کی زندگیوں اور ان کے کارناموں سے آپ ضرور واقف ہو نگیں،جو کئی بار ناکام ہوۓ،مگر ہمت نہ ہاری،مایوس نہ ہوۓ،صبرواستقامت کے ساتھ ثابت قدمی سے اپنی کوشیشوں کو جاری وساری رکھا،ڈٹے رہے،تو پھر کامیابی نے بھی ان کے آگے گُھٹنے ٹیک دیئۓ۔۔۔اور وہ ایسی زندگی جی گیۓ،کہ سالوں پہلے مرنے کے باوجود ان کے نام اب تک نہ مٹ سکے۔۔۔شاذونادر ہی نہایت کم لوگ ایسے ہوں جو محنت کے بغیر ہی کامیاب ہو گۓ ہوں مگر ایسے لوگ بھی اگر محنتی ہوۓ تو ہی وہ کامیابی کو سنبھال رکھنے کے قابل ہو سکے گیں۔۔ورنہ عظمتیں اُنہیں ہی ملتی ہیں جو محنت پر یقین کرنا،اور محنت کرنا جانتے ہوں۔
لہذا اگر آپ خود کو ابھی تک معمولی سمجھتے ہیں اور معمولی رندگی جی رہے تو پھر اٹھیں،ہمت کریں،اپنے شوق و اپنی صلاحیت کو پہچانیں،پھراسی سمت دل وجان سے اپنی ساری محنتیں و کو شیشیں وار دیں اور یقین رکھیں کہ اک دن یقیناً کامیابی آپکی ہوگی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں