یہ وبال ہے۔۔۔۔
کرونا ایک ایسا وائرس جس کی طاقت نے ساری دھرتی کو جھنجوڑ ڈالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترقی یافتہ اقوام کی معاشی دیواروں کو ہلا ڈالا۔۔۔۔ تعلیمی ادارے اور مراکز بند، تجارتی سرگرمیاں موقوف،، مذہبی و دینی فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹیں، سڑکیں اور شہر سنسان،، گھر سے نکلنے اور آنے جانے پر پابندی،، دنیا بھر کے نامور سائنسدان بھی پریشان،، ماہر اور تجربہ کار ڈاکٹرز مایوس،، لوگ خوفزدہ،، ہر طرف حفاظتی تدابیر اور بچاؤ کے طریقوں پر غور و خوض،، پوری دنیا میں تیزی سے پھیلتی ہوئی یہ افسردگی گہماگہمی اور بے چینی۔۔۔۔ اب تک اس کا کوئی سدباب نہیں۔۔۔۔؟
اسے کنٹرول کرنے کا کوئی خاص طریقہ کار نہیں۔۔۔۔۔ْ؟ کوئیْ مثبت علاج نہیں۔۔۔۔۔؟ یہ عذاب ہے ہماری بڑھتی ہوئی نافرمانیوں کا۔۔۔۔۔۔ یہ وبال ہے ہماری بےراہ روی اور گمراہیوں کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ضرورت ہے کہ اپنے بھولے ہوئے خالق کو پکارا جائے۔۔۔۔۔۔ یہی وقت ہے کہ زیادہ سے زیادہ استغفار کیا جائے اس سے پناہ مانگی جائےِ۔۔۔اس سے بخشیش طلب کی جائے اپنے لئے بخشیش ۔۔۔۔۔، ساری دھرتی کے انسانوں کے لئے بخشیش۔ِ۔۔۔۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راہ فرار نہیں۔۔۔۔ْ؟۔۔۔۔ْْ؟ ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ احتیاطی کلیوں قاعدوں اور اصولوں پر علدرآمد کرے ضرور کرے۔پراس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے بگڑے ہوئے اعمالوں کو سدھارا جائے۔۔ ٹوٹے ہوئے تعلقِ ربِ کائنات کوپھر سے جوڑا جائےسنوارا جا ۓ۔۔ ِاس وقت اورحالات کو غنیمت جانا جائے۔۔۔۔
خالق کی اپنی مخلوق کو ا پنی طر ف متوجہ کرنے کے لیے یہ عظیم مہلت ھے۔۔ یہی موقع ہے اس کے ُقرب کے حصول کا۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ذریعہ ہے اس کی حصولِ خشنودی کا ۔۔۔۔۔۔۔ یہی لمحہ ہے اسے منانے کاِ۔ِ۔۔۔۔ِ۔ِ۔۔۔۔ اسکی طاقت بھی کامل، اقتداربھی کامل،اسکی حکمت بھی کامل،، ساری طاقتیں سامنے اس کے زیر ہیں کوئی زبر نہیں سوائے اس کے کسی کو بقا نہیں مرنا تو ہے کیونکہ موت برحق ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ٰٰٰٰہر ِذی جان کو اس کا مزہ چکھنا ضرور ہےٰٰٰٰٰٰ اور مومن کبھی موت سے نہیں ڈرتا۔۔۔۔۔۔ ڈر ہو تو صرف اپنے خالق کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خالقِ کائنات کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو سب کا رب ہے اس طاقتور وائرس کا بھی رب ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ ہو اس کا اشارہ تو کچھ بھی ممکن نہیں اس کے حکموں کے سب محتاج ہیں۔۔
رب راضی تو موت بھی فتح یابی بھی ہے۔ وگر نہ اس کی نافرمانی میں تو بادشاہت بھی تباہی ہے۔۔۔ کیا ہی معنی خیز بات ہے کہ کرونا وائرس سے کسی بھی شخص کی موت کا امکان ۱فی صد البتہ موت کے کسی بھی وقت آنےکاامکان ۱۰۰ فی صد ہے۔ ۔ لہذا قبل اسکےوہ اچانک سر پر آ جائے اس کی تیاری کی جائے۔۔ اللہ ہمیں خیر وعافیت کے ساتھ زندہ رکھے اور ایمان پر خاتمہ بالخیر عطا فرمائے۔۔ ہمارے ملک پاکستان اور تمام انسانیت کواس و با اور اس کی تباہ کاریوں سے نجات دلائے۔ ۔ ِاسے غیر مسلموں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنا دے اور ہم تمام ُامتِ مسلمہ کو پورا کا پورا دائرۓ اسلام میں داخل کر دے آمین۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں