کیوں عمل سے دامن خالی ہے؟

 علم اگر عمل میں ہوتو وہ خود پوری دنیا میں چار سو پھیل جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمارے پیارے نبیﷺ نے جو فرمایا ،بذات خود عملی نمونہ پیش کیا۔ جن سے متاثر ہو کر ہزاروں جہالت و کفر میں ڈوبے ہوئے دل خود روشن ہو گئے۔ آپﷺ کے حسنِ اخلاق کے سب ہی گرویدہ تھے۔ حتیٰ کہ جنہوں نے اپنی ضد و ہٹ دھرمی سے دینِ حق کا انکار کیا وہ بھی آپؐ کی صداقت ایمانداری اور دیانتداری کے سامنے جھک گئے۔ یوں آپؐ نے اپنے اخلاق،طرزِ زندگی وطرزِعمل سے پوری دنیا کو علم کی روشنی سے منور کردیا۔آپ کے ساتھی صحابہ کرامؓ نے پھر اس روشنی کو اپنے دل میں اس طرح سمویا ، عمل میں اتارا اور خود کو اتباعِ سنت کے مطابق مکمل ڈھال لیا۔ پھر ان کے عمل کے دیے سے یہ روشنی آگے سے آگے بڑھتی گئی۔

 در حقیقت عمل سے ہی علم زندہ ہے ،بغیرعمل کےعلم ادھورا ہے۔  کہنے والا اپنی صداقت پر اسی وقت پورا اترتا ہے جب وہ جو کہے اس کے اعمال میں لازمی شامل ہو، تاثیر بھی تب ہی ملتی ہے اور بات بھی دور‌تلک جاتی ہے۔ بغیر عمل کے علم مِٹ جاتا ہے۔ علم و عمل لازم و ملزوم ہیں ۔رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے" علم بغیر عمل وبال ہے اور عمل،بغیر علم  گمراہی ہے"علم عمل کو آواز دیتا ہے،پس اگر وہ جواب دے تو ٹھہرتا ہےورنہ کوچ کر جاتا ہے"۔

اچھی بات پھیلانا،اگرچہ مومن کا فریضہ ہے مگر رب کے نزدیک معتبروہ ہے جو خود نیکی کرتے اور ‌دوسروں کو بھی نیکی کی تلقین کرتے ہیں۔

 اگر علم کی روشنی کو ہم عمل سے پھیلائیں تو عمل وہ طاقت ہے جس کی بدولت،دنیابدل سکتی ہیں،آج نصیحتیں تو بہت ہیں ،مگر خود ماننے پر آمادہ نہیں عاجزی سے دور ہیں ،عمل سے دامن خالی ہے،تو پھر تاثیر کہاں سے آۓ۔آپ کو  ایسے لوگ باکثرت ملے گیں  جن کا طرز عمل انکے علم کے تابع نہیں۔معاشرے میں بگاڑ اور زیادہ تر غیر اخلاقی برائیاں عمل میں کمی کی وجہ سے سر اٹھا رہی ہیں۔ علم اور ڈگری کی بھرماڑ ہے مگر عمل کے بغیر بے فیض ہے،بحث و مباحثے کے ذریعے اپنا آپ منوانا چاھتے ہیں مگر عمل سے نہیں، سوائےفائدے مند بننے کے دھرتی پر نہ صرف بوجھ ہی‍ں بلکہ امن کی خرابی کا بھی باعث ہی‍ں۔  حصول علم کا اصل مقصد خود کی جہالت کو مٹانا ہے جو خود اندھیرے میں ہو اپنی گھٹن و تاریکی کو نہ بدل سکے وہی علم خود اسکی بربادی،تباہی بن جاتا ہے۔عمل اور اسکی صدق دل سے کوشیش لازماً ضروری ہے۔

 ہمیں اپنی سیکھے ہوئے علم کو اپنےروئیوں سے دوسروں تک پہنچانا ہے یہی حکم خداوندی ہے ،یہی سنتِ رسولﷺہے، یہی علم کا تقاضہ ہے۔  اگر سیکھا ہواعلم ہمارے ظاہر کے ساتھ، باطن کو بھی تبدیل کرنے کا سبب بن جائے، تو خود عمل کا حصہ بن جاتا ہے۔عمل تب مشکل ہوتا ہے جب باطن کے بجائے ظاہر کو سنوارنے کی فکروں میں دل مشغول ہو جائے۔لہذا باطن کو نکھارنے کی فکر اور محنت زیادہ کی جائے  تاکہ عمل صالح کی رغبت، نیکی کی قوت پیدا ہو۔

 ہم سب اچھی باتیں روز سیکھتے ہیں اور اسے اپنانے کی خواہش بھی ضرور  کرتے ہیں مگر ہم عمل  کے پرچے میں فیل ہو جاتے ہیں جب تک عمل میں پختگی نہیں آتی ہم ادھورے اور خالی رہیں گیں۔ ہماری عبادتیں بے اثر ہو  گیں اور اس سکون کے بھی متلاشی ہی رہیں گیں، جو عمل اور نیتوں میں اخلاص کی بنا پر حاصل ہوتا ہے۔ ہمیں عمل کو لازم کرنا ہے اسکی توفیق اپنے رب سے مانگتے رہنا  ہے بار بار اگر دروازہ کھٹکھٹایا جائے تو وہ ضرور کھلتا ہے‌‌ وہ توفیق دے گا ہمیں عمل کا پابند بنادےگااور اخلاص کی نعمت سے بھی نواز دے گا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بے خوابی سے زیادہ سنگین اس سے متعلق پریشانی ہے۔۔؟

مہلت۔۔۔۔۔۔۔۔,

منزل نہیں ملے گی۔۔۔۔