سیرتِ زینب کبریٰؓ بنتِ علیؓ۔۔۔۔


 تاریخ الاسلام کی عظیم الشان شخصیات میں سے ایک اہم شخصیت جن کے نانا سرور کائنات، رحمت العالمین محبوب خدا ،سردار الانبیاء حضرت  محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور نانی اول خاتونِ اسلام امّ المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰؓ اور والد شیرِخدا،علم کا دروازہ،شجاعت و بہادری کا بے مثال پیکر حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور  والدہ رسولِؐ خدا کی لختِ جگر خاتونِ جنت حضرت فاطمہ الزہرا  بتولؓ اور بھائی  جوانانِ جنت کے سردار حضرت حسنؓ اور حسینؓ اور چچا محبوبِ رسول حضرت جعفر طیّارؓ شہید موتہ اور ان کے شوہر عبداللہ بن جعفر طیّار تھے اس زمیں پر مقدس گھرانے کی وہ محترم ہستی حضرت زینبؓ کبریٰ ہیں۔

 آپؓ مستند روایات کے مطابق جمادی الاولیٰ ۵ ہجری میں پیدا ہوئیں۔آپؐ نے خود انکا نام زینب تجویز کیا اور اپنا لعابِ مبارک ان کے منہ می‍ں ڈالا اپنے بھائیو‍ں کی طرح آپؓ بھی اپنے نانا کی بے حد لاڈلی تھیں آپؓ کی کنیت امّ الحسن یا بروایت دیگر امّ کلثوم تھی۔دل سوز واقعہِ کربلا کے بعد امّ المصائب بھی آپؓ کی کنیت مشہور ہوگئی۔

ناموس الکبریٰ،صِدّیقتہ الصغریٰ شجاعہ،فصیحہ،بلیغہ،زاہدہ فاضلہ،خاتونِ کربلا آپؓ کے چند مشہور القاب تھے۔آپ ؓحضرت خدیجۃ الکبری کی ہم شبیہ تھیں۔ جب آپکی عمر چھ سال کے لگ بھگ تھی تو پہلا غم جوآپ کو ملا وہ اپنے پیارے شفیق ناناؐ سے جدائی تھی ربیع  الاول ۱۱ ہجری آپؐ کے وصال کے چھے ماہ بعد جس درد نے آپ کو مزید شکستہ حال کر ڈالا وہ اپنی پیاری ماں کی ممتا بھری شفقت سے چھ سال کی عمر  میں ہمیشہ کے لئے محرومی تھی۔

 آپ اپنے دونوں بھائی حسنؓ اور حسینؓ سے گھر میں سب سے چھوٹی تھیں حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ  نے آپ کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری بھی باقی بچوں کی طرح خود اپنے سر لی اور کچھ مدت کے بعد ان کی نگرانی کیلئے امّ البنین بنتِ خزام کلابیہ سے نکاح کر لیا۔

 آپکی پرورش اور تربیت کا آغاز سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ زہرا کی زیرِ نگرانی ہوا بعد میں اپنے والدِ ماجد جنہیں علم فصاحت و بلاغت میں عبور حاصل تھا اور ماہرخطیب تھے کی زیرِ سرپرستی میں مکمل ہوا ۔جن کہ استاد والدِ محترم عالی مرتبہ بے مثال اوصاف کا نمونہ ہو تو وہاں شاگرد کا مقام بھی کیوں نہ اعلٰی و مثالی ہوگا۔۔ آپ بھی شجاعت بہادری،زہد وتقوی،عقل و فراست،حق گوئی و بیباکی کی عملی تصویر تھیں۔دراز قد چہرے مبارک پر اپنے ناناؐکاجلال  اور اندازِ چال ڈھال اپنے والد محترم کے مشابہ،خدمت گزار ملنسار بلند اخلاق، عفت و عصمت اور عبادات و شبِ بیداری میں اپنی والدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مشابہہ تھیں۔

 آپؓ جب گیارہ یا تیرا برس کو پہنچی تو آپؓ کا نکاح اپنے چچا کے بیٹے عبداللہ  بن جعفر ؓسے جن کی پرورش و تربیت سرور رسولؐ نے ان کے والد کی شہادت کے بعد خود فرمائی ٫سے ،انجام پایا۔آپؓ کی ازواجی زندگی ایک کامیاب خوشحالی زندگی تھی اور عبداللہ بن جعفرؓ با کمال ،با اخلاق ہر دلعزیز اوصاف کے مالک تھے حضرت عبداللہؓ نہایت کشادہ اور فراخ دل تھے،آپؓ بھی سخاوت و فراخدلی میں اپنے شوہر کے شایانِ شان تھی‍ں۔

 شادی کے بعد آپ اپنے شوہر کے ہمراہ کوفہ آ گئیں یہاں آکردرس و تدریس کے کام میں خود کو مشغول کرلیا اور وعظ و ہدایت کی تعلیم خواتین تک پہنچاتی قرآنِ کریم کے مطالب تفسیر کے ساتھ سیکھاتی جلد ہی آپؓ کے علم و فضل کا دور دور تک چرچا ہو گیا۔ 

 زندگی میں سب کچھ خوش باش گزر رہا تھا کہ ایک پیش آنے والے سانحہ نے ا‌نکی خوبصورت زندگی میں ہل چل کر دی آپؓ کے والد حضرت کرم علی وجہہ جو کہ کوفہ میں مستقرتھے ،مسجدِکوفہ میں قاتلا‌نہ حملہ ہوا ۲۱ رمضان ۴۰ہجری می‍ں زہر آلود تلوار کے خطرناک وار سے جامِ شہادت نوش کر گیۓ۔

 آپ کو اس سے سخت صدمہ پہنچا مگر یہاں سے  آپ  کے کرب و دکھ کی داستان بڑھتی گئی صبر  کے امتحان شروع ہوئے پے در پے ملنے والے غموں کی برسات ہوگئی۔۴۹یا۵۰ہجری میں انہیں اپنے بھائی حسنؓ کی شہادت کا ایک اور صدمہ سہنا پڑا۔

 ذی الحجہ سنہ ۶۰ ہجری میں جب حضرت امام حسینؓ اپنے اہل و عیال کے ساتھ مکے سے کوفہ کے لیے روانہ ہوئے تو آپؓ اپنے دو نوخیز فرزندوں کے ساتھ اس قافلے میں شامل تھی‍ں۔دس محرم الحرام ۶۱ ہجری کو جب المناک سانحہِ کربلا پیش آیاتو دونوں بیٹے عونؓ اور محؓمد کو بھی دوسرےساتھیوں کی شہادت کے بعد  بھائی حسینؓ سے میدانِ جنگ میں بھیجنے کی اجازت مانگی بار بار اسرار پر اجازت ملی اور وہ دونوں بھی دلیری سے لڑےاور جامِ شہادت نوش کر گۓ،بھتیجے،بھائی،سب بہادری و جوان مردی سے لڑتے لڑتے ایک ایک کر کے آپکی آنکھوں کے سامنے شہید ہوۓاپنے پیاروں کی لاشیش خون سے رنگی ہوئی سر تن سے جدا دیکھی تو شدتِ غم سے نڈھال ہو گئی غش کھا کر گر پڑتی مگر پھر بھی  صبر کا دامن نہ چھوڑا اپنے بچے کُھچے خاندان کو ڈھارس دی اپنی پرزور تقاریر و خطبات سے ان کے ٹوٹےدلوں کو سیمیٹا ،مظبوط ڈھال بن گئیں۔

 دشمنوں کے دل اپنی گرجدار تقاریر سے دہلا ڈالے کرب غصے تحقیر آمیز  الفاظوں سے ان کے منہ پر طمانچے مارے کوفیوں پر سکتہ طاری ہوگیا سناٹا چھا گیا ان کی زبانیں بند ہوگئی، ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔آج بھی اس بھیانک سانحے کی یاد خون کے آنسو رولاتی ہے تو وہ ہستی جن پر یہ دکھ بیتا ان کے دل کی حالت کیا ہو گی اس واقعے نے ان سے جینے کی آرزو چھین لی وہ زندہ تھیں مگر ان کی آنکھی‍ں ہر وقت بھیگی رہتی،غم کے ساۓ چہرے پر چھاۓ رہتے،اس دن کے بعد کسی نے انھیں‌مسکراتے بھی نہ د یکھا اب بس ان کی ایک ہی آرزو تھی کہ وہ بھی جلد از جلد اپنے اہل و عیال اور اپنے بھائی سے جا ملیں بالا آخر انھیں دکھوں سے آزادی ملی ۶۳ ہجری میں وہ بھی اس دکھ بھری زندگی سے آزاد ہو گئیں۔آپؓ کا مزار دمشق و قاہرہ دونوں جگہ موجود ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بے خوابی سے زیادہ سنگین اس سے متعلق پریشانی ہے۔۔؟

مہلت۔۔۔۔۔۔۔۔,

منزل نہیں ملے گی۔۔۔۔