زبان کے تیر

 بعض لوگ طبیتاًاور مزاجاًاتنے سخت بد زبان اوربدمزاج ہوتے ہیں کہ جوبھی ان سے ملے ان کی زبان سے محفوظ نہ رہ پائے  ان  کی زباں کے تیرنے کتنے ہی دل چھلنی کر دیے قطعہ نظر یہ اس سے بلکل بے خبر وانجان ہوتے ہیں۔۔ لوگوں کی امیدوں کوتوڑنا،ان کے جذبات سے کھیلنا اپنی زبان یا دیگراعضاءسے دوسروں کے لئے اذیت و تکلیف کاباعث بننا  یہ خود ایسے لوگوں کے اپنے لئے بھی بے سکونی اوردونوں جہاں کی بربادی کا کام ہے۔

کیوں کہ زبان کی حفاظت ایمان  کی حفاظت ہے۔جس نے اسے کنٹرول کرلیا اس سے نکلنے  والے نشتر کو روک لیا اس نے اپنا ایمان اوردین محفوظ کرلیا۔۔  ایسے مزاج والے انسانوں سےغالباً ہرایک کا واسطہ پڑتا ہی ہے کیوں کہ جب انسانوں میں خیالات و  نظریات کا تضاد ہے تو  اپنی  مرضی نہ ہونے پر گلہ شکوہ شکایات کی کسر ایسے لوگ  ظنز بازی اور تنقید سے پوری کرتے ہیں۔ ہر گھر کی اک کہانی، اور تقریباً ہر گھر میں ہی کوئی نہ کوئی ایسا موجود ہوتا ہے جو زبان کی تیزی کا شکار ہوتا ہے۔ کہیں ساس کی وجہ سے بہو پریشان تو کہیں بہوہی ظالم ہے،کہیں بیوی شوہر کی بد مزاجی سے ہلکان ہے تو کہیں بیوی بد زبان ہے۔۔ اب سوال  یہ ہے کہ ایسے انسانوں کی زبان سے خود کو زخمی ہونے سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کیئے جائیں تاکہ رشتے بھی بچ جائیں اور ہمارا دل اور ہمارا مزاج بھی صحیح و سالم رہے۔ چند مفید مشورے پیشِ خدمت ہیں۔

۱. سب سے پہلے تو ایسے لوگوں کی بدمزاجی اور زبان کی تیزی کو دل سے قبول کر لیں کیوں کہ بہت سے مسئلےمزید بڑے تب بن جاتے ہیں جب انہیں قبول کرنے سے کترایاجائے۔ ۔ قبول کرنے کے بعد انسان کی ساری توجہ مسلے کے حل کے اقدامات کی طرف  آتی ہے  اور پرابلم آدھی ہوجاتی ہے۔۔

۲. ایسے لوگوں کو قابل ترس جانیں یہ نادان اور ناسمجھ ہیں کیونکہ جو اپنے دین و ایمان سے  وفانہ کرسکےاسے بچانے کی فکر سے ناآشنا ہو وہ رحم کھانے کے قابل ہے۔۔۔

۳. ان کے لیے کثرت سے دعائےِ خیر کریں کیونکہ اگر اللہ چاہےتو زبان میں چاشنی اور درستگی دے دے اوردلوں کو رحم سے نواز دے۔۔

۴خود کو اللہ کی یادوذکر سے اور اپنے پسندیدہ کاموں میں اتنا مصروف کرلیں کہ پھر وقت ہی نہ بچ پائے کہ منفی باتوں کو زیادہ دیر دل پر لیا جائے۔

۵. اچھی اور معیاری کتابوں کا مطالعہ کرنے کی عادت اپنائیں ریسرچ کہتی ہے مطالعہ کرنے سے انسان پر سکون اور مثبت رہتا ہے دماغ کو اتنی مثبت سوچ دیں کہ پھر یہ منفی رویوں پر ہلکان نہ ہو۔۔

۶. جب بھی دل پریشان ہو قرآنِ کریم کو ترجمہ و تفسیر سے پڑھیں اللہ کی بات دلوں کو تقویت و سکون بخشتی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بے خوابی سے زیادہ سنگین اس سے متعلق پریشانی ہے۔۔؟

مہلت۔۔۔۔۔۔۔۔,

منزل نہیں ملے گی۔۔۔۔