استاد کی تعظیم وادب کو فروغ دیں۔۔۔
یوں تو اللہ عزوجل نے تمام رشتے ہی جو ہم انسان کے لیے بنائے وہ قابل محترم ہیں مگر والدین کے بعد جنھیں روحانی والدین کا درجہ حاصل ہے وہ رشتہ اس دھرتی پر" استاد" کا ہے۔
عظیم قوم،کامیاب معاشرہ، مثبت ذہن سازی،حصول علم، شوقِ تحصیل علم، ملک کی ترقی و کامیابی، فرد کی بہترین تربیت، ملت کی خدمت کا جذبہ ابھاڑنے ، طلبہ کواچھا شہری اور باکرداربنانے میں استاد ہی کار فرما ہے۔ غرض یہ کہ استاد کی بے پایہ خدمات کے بعد معاشرے کے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ ان کی عظمت کو پہچانیں اورنہ صرف طلباء بلکہ عالمی وقومی سطح پر زندگی کے ہر شعبے میں استاد کا درجہ اہمیت و قدر و عظمت کو محترم جانیں اور دل سے ان کی تعظیم کریں۔
بلاشبہ استاد کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے استاد کا عالمی دن منایا جاتا ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ استاد کی قدر و عظمت کو ہر کوئی جانتا تو ہے مگر مانتا کم ہے اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا جدید ٹیکنالوجی اور بڑھتی ہوئی نت نئی ایجادات کی موجودگی میں استاد کے ادب و احترام کا گراف گرا ہے۔
ہمارے دل میں اپنے استاد کا احترام عقیدت و محبت اور جذبہِ خدمت کاجو معیار تھا، ان کے حکموں کو سر آنکھوں پر رکھنا، آپس میں صرف اس لئے جھگڑنا کہ ہم ان خوش نصیبوں میں شامل ہو جائیں جنہیں استاد کی خدمت کا شرف ملتا ہے، وہ آج کے طلباء اور تعلیمی اداروں میں بہت کم دیکھا جاتا ہے۔
عبد الرحمٰن بن قاسم فرماتے ہیں" میں بیس سال تک امام مالکؒ کی خدمت میں رہا ان میں 18 سال آداب و اخلاق کی تعلیم میں خرچ ہوئے اور صرف دو سال علم کی تحصیل میں"۔ چراغ جس طرح جلائے بغیر روشنی نہیں دیتا علم بھی بغیر عمل و ادب کے فائدہ نہیں پہنچاتا۔ جو استاد کا ادب نہیں کرتا وہ علم کی روشنی سے اپنے اندر جہالت کے اندھیرے کو ختم کرنے میں نامراد ہی رہتا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مطابق جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا اس نے مجھے اپنا غلام بنا لیا۔ استاد چاہے جیسا بھی ہو اس کی خامیوں سے قطع نظر اس کا ادب و احترام ہم پر واجب ہے۔ ادب کے بغیر علم کا پھلنا پھولنا ناممکن ہے۔ علم اسی کے سینے میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے اور عمل کی توفیق بھی اسے ہی نصیب ہوتی ہے جو اپنے سیکھانے والے یعنی اساتذہ کا ادب کرنا جانتا ہے ۔
جتنے بھی عظیم شخصیات اور بڑے بڑے ماہر علوم اور عالم دین کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا یہ تمام لوگ اپنے اساتذہ کا نہ صرف ادب کرتے بلکہ ان کی تعظیم کرتے تھے۔
حضرت امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ میں حضرت امام مالکؒ کے سامنے ورق بھی بہت آہستہ اُلٹتا تھا کہ اس کی آواز ان کو سنائی نہ دے۔ امام ربیعؒ فرماتے ہیں کہ امام شافعیؒ کی نظر کے سامنے مجھ کو کبھی پانی پینے کی جرات نہ ہوئی۔
ہمارے معاشرے میں آج استاد کے ادب کا جو مقام ہے اس سے ہم سب واقف ہیں۔ شوقِ تحصیل علم تو باقی ہے لیکن بد قسمتی سے استاد کا ادب کب کاسب کی زندگیوں سے خیرباد کہہ کر چلا گیا ہے۔
کتاب مخزن اخلاق سے ماخوذ ہے بزرگوں نے فرمایا کہ استاد کے پہلو میں نہ بیٹھو وہ کہے تب بھی نہ بیٹھو مگر جب جانو کے نہ بیٹھنے سے اس کو صدمہ ہوگا تب مضائقہ نہیں۔ استاد کے ساتھ بڑے ادب سے گفتگوکرو اس سے لِمَ یعنی کیوں نہ کہو اس طرح( لاتسلم )ہم نہیں مانتے یا اس کو کس نے نقل کیا ہے یا (یہ کہاں لکھا ہے) یہ الفاظ بھی نہ بولو اور جب استاد اچھی بات بتاۓ یا کسی بری بات پر تنبیہ کرے تو اس کی شکر گزاری ضروری ہے جب وہ کوئی نکتہ بتاۓ تمہیں اگر وہ پہلے سے معلوم ہے جب بھی یہ ظاہر نہ کرو کہ یہ تو مجھ کو پہلے سے معلوم ہے یہ استاد کا ادب اور تعظیم کا طریقہ ہے۔
استاد کا ادب جس طرح شاگرد پر واجب ہے اس سے کہیں زیادہ والدین کا بھی یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی نظر میں استاد کو قابلِ محترم بنائیں اور ان کا ادب سیکھانے میں اہم کردار ادا کریں معاشرہ آج ادب و اخلاق سے محروم ہے اس کا فقدان بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ جس کا سبب کہیں نہ کہیں خود والدین ہیں چونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بھاری فیس ادا کر رہے ہیں اس لئے جب چاہیں انکی کو تاہیوں پر سوال جواب کا پورا حق رکھتے ہیں۔ ان کے سامنے استاد کی کمیوں کو اچھالنا بچوں کے دلوں میں قائم استاد کی عظمت کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ اور جب ادب نہ رہے باقی تو عمل کی توفیق بھی نہیں ملتی لہذا ڈگریاں تو ہوتی ہیں مگر عمل سے خالی۔
استاد کو خود بھی اپنی قدر و اہمیت کو پہچاننا چاہیے وہ موثر کردار جو کہ معاشرے کی ضرورت ہے اسے چاہیے کہ دل و جان سے نبھاۓ کیوں کہ یہ بھاری بوجھ ہے جو اس کے ذمہ ہےایک فرد کے پیچھے ایک پوری نسل ہے اگر وہ استاد ہیں تو اپنی عظمت خود اپنے کردار،رویۓ طریقِ عمل و محبت سے شاگردوں کے دلوں میں پیدا کرے۔ تعلیم کے ساتھ ان کے اقدار و تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں کیونکہ اخلاق کی پستی معاشرے کا بگاڑ ہے استاد وہ ہستی ہے جس سے اسکا شاگرد سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے اور اس جیسا بننے کی ضرور جستجو و کوشیش کرتا ہے اسکی رہنمائی میں رہنما بنتا ہے ،قوم کو ایک بہترین فرد دیں جسے بنانا استاد پر عائد ہے۔
یقیناََوالدین کی پرورش کے ساتھ ساتھ استاد کی صحبت و تربیت کی موجودگی میں ہی ایک فردکامیابی کی منزلیں طے کرتا ہے۔ اور فرد سے ہی معاشرہ ہے۔ بقول معروف و عظیم استاد قاسم علی شاہ " اگر ہم عظیم قوم دیکھنا چاہتے ہیں ضروری ہے کہ قوم کو عظیم استاد دیں"۔ قوم کا سرمایہ استاد ہیں۔ استاد ہی انسان کو عظمت سے روشناس کرواتا،عظیم بناتاہے۔ اور عظمت کو پانے کا جذبہ اجاگر کرتا ہے۔ گذارش عرض یہ ہے کہ بحیثیت والدین استاد شاگرد سب اپنا اپنا کردار بخوبی نبھائیں اور معاشرے میں علم ،ادب و اخلاق کو فروغ دینے میں اپنا حصہ ڈالیں۔اور پھر سے ادب کی فضا ازسر بلند کریں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں