فیض۔۔۔۔۔۔۔


 اللہ عزوجل فرماتا ہے" ہم نے تمہیں جو رزق دیا ہے اسے وہ دن(قیامت والے دن) کے آنے سے پہلے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کرو" (سورۃ البقرہ )

 اللہ سبحانہ وتعالی اپنی راہ میں رزق خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے۔۔ اس کے بندوں پر اوردین کے کاموں پرخرچ اس کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔۔ رزق سے مراد صرف پیسہ نہیں ہے ضروری نہیں کہ آپ لوگوں کی مدد صرف پیسے ہی سے کریں۔۔۔۔بے شک اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا مال سے لوگوں کی مدد کرنا۔۔۔۔۔ ایک اعلٰی درجہ کی نیکی ہے مگر اللہ نے جس کسی کو جو بھی دیا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اس سے اپنے ملک و معاشرے اور دین کو فیض دیے۔۔۔۔۔۔ لوگو‍‍ں کا ہمدرد اور خیر خواہ بنے۔۔اگر کسی کے پاس مال ودولت نہیں تو پھر جو بھی ہے اسی کو فائدہ دینے کے لئے استعمال کرے۔۔۔۔۔۔ طاقت ہے تو طاقت سے صحت ہے تو صحت سے علم،عقل ،فہم ،مشاہدہ و تجربہ ہے تو اس کے ذریعے ہی لوگوں کی رہنمائی کرے۔۔۔

 کسی کو صحیح راستہ دکھاۓ ۔۔  صحیح سمت ،اصل منزل کا پتہ بتاۓ تو کسی کو نئی مثبت سوچ, بھلا شوق دے ۔۔۔ کسی کے غم کی دوا اور سکون کی وجہ بنے۔۔۔۔ امید دے حوصلہ دے۔۔۔اور کسی کو یہ یقین کہ تم معمولی نہیں انمول ہو ۔۔۔۔ لیکن جہاں مدد و آسانی کی فراہمی اختیار سے باہر ہو وہاں دعا ضروردے۔۔۔ غرض آپکی دسترس میں موجودخدا تعالی کی جو بھی نعمت ہو اس سے دوسروں کو فیض پہنچاۓ۔ِ۔۔ انسانیت کے فائدے اور اسکی بقا کے لۓ مخلص رہیں آپ  کے مال آپ کی صلاحیت آپ کی طاقت میں دوسرے انسانوں کا بھی حق ہے جسے اگر صرف اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا اپنے ملک قوم معاشرے اور اس کے لوگوں کو کچھ نہ دیا تو اس کا ہمیں حساب لازماً دینا ہوگا۔۔۔ 

سورۃ  العصر جس کا مفہوم ہے کہ بیشک انسان خسارے میں ہے سوائے ان لوگوں کے جو  ایمان  والے متقی صبر،اور حق بات کی تلقین کرنے والے ہوں ۔۔ اس لیے حق بات کا جاننا ،، سیکھنا عمل کرنا اور جو جانتا نہیں اس تک پہنچانا ضروری ہے۔۔۔تاریخ بھی ایسے لوگوں کو کبھی نہیں بھولتی ،جو انسانوں کے لیے نفع بخش ہو۔۔۔۔ خدا تعالیٰ کے یہاں بھی خرچ  کرنے والوں کا خاص درجہ و مقام ہے وہ فرماتا ہے کہ یہ میرا قرض ہےاور مجھ پر واجب ہے کہ میں اس کا ثواب کئی گُنا بڑھا کر دوں گا" فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے" تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچانے والا ہو". اس دنیا میں اور اگلے جہاں میں بھی صرف وہی مرتبے اور عظمت والا ہے جو خیر باٹتا اور آسانیاں پھیلاتا ہے۔۔ صرف اپنے لۓجینا خود سے جڑے لوگوں کا احساس نہ کرنا خوداپنے آپ سےبھی بےوفائی ہے۔۔۔

 بےحس لوگ زندگی کے اصل ذائقےاور خوشی سے ناآشنا  ہی ہوتے ہیں۔ مزہ رب کی رضا کے لئے خود کو قربان کرنے اوراپنے نفس کو رد کرنے میں ہے۔۔اس لئے ہمیں اپنی آخری سانس تک یہ کوشش کرنی ہے کہ ہم سے ہمیشہ خیر ملے ہم  وہ چراغ بنے جو اپنی آخری سانس تک روشنی دیتا ہے۔۔۔۔ مرنے کے بعد بھی وہی لوگ زندہ رہےہیں جن کی ذات سے لوگوں کو ملک کو دنیا کو خیر ملا ہے۔۔۔ جو صرف لینے کی تمنا رکھتا ہو اور دینا کچھ نہ جانتا ہو ایسے شخص بے معنی بغیر مقصد زندگی گذارتے اور زندگی ہی میں فراموش کر دیے جاتے ہیں۔۔

 کئی بے مثال عظیم الشان زندہ جاوید شخصیات کی مثالوں سےہماری تاریخ دمکتی ہے جو سالوں پہلے گذرجانے کے بعد آج بھی اپنے خیر کی وجہ سے زندہ ہیں ان کی محبت اور یاد کے چراغ اب بھی روشن ہیں۔۔لہذا آپ کے پاس جو کچھ بھی ہے عہد کریں اسی سے دوسروں کو جذبہ خلوص کے ساتھ خیر پہنچائیں گیں ۔۔۔۔۔۔ ایسے کام تلاش کریں گے اور اسے اپنی زندگی ہی میں تکمیل تک پہنچائیں گے جو ہمارے اس دنیائے فانی سے رخصت ہونے کے بعد بھی خیر کا باعث اور صدقہ جاریہ بنتا رہے۔ِ۔۔۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بے خوابی سے زیادہ سنگین اس سے متعلق پریشانی ہے۔۔؟

مہلت۔۔۔۔۔۔۔۔,

منزل نہیں ملے گی۔۔۔۔