پریشانی حالات سے نہیں خیالات سے۔۔۔
یہ حقیقت ہے کہ اگر ہم لوگوں کےدکھ سننے بیٹھیں تو ہمیں اپنے دکھ کم لگنے لگے کیونکہ بعض اوقات مسئلے اتنے بھی بڑے نہیں ہوتے جتنا ہم اپنے خیالات سے بنا لیتے ہیں۔بقول واصف علی واصف صاحب" پریشانی حالات سے نہیں خیالات سے ہوتی ہے" ۔
اپنے نظریات ،خیالات و رویئوں سے ہم خود کو اذیت دیتے شکستہ دل رہتے اور خوشیوں کا دروازہ خود پر بند کر لیتے ہیں۔ اور اس حد تک منفی سوچوں کو طاری کر لیتے کہ بجائے اپنی صلاحیتیں اور توانائی حل کے اقدامات کی طرف لے کر جائیں زندگی سے پیچھا چُھڑانے کی ترکیبں سوچتے ہیں۔
تب ہی کہا جاتا ہے کہ اگر موازنہ کرنا ہو تو ہمیشہ دنیا کے مصائب وحالات کااپنے سے نیچے والوں سے کرو اورخدا کا شکر کرو کہ ہم ان سے بہتر ہیں اور دینی معاملات ،اخلاق و اقدار میں موازنہ ہمیشہ برتر سے کرو تاکہ اصلاح کی طرف رجوع ہو اور اپنی ساری کوششیں اور توانائی اس طرف موڑ دو۔
جن مسئلے اور اسکے خیال نے ہمیں بہت زیادہ پریشان کر رکھا ہے، اگر ہم پہلے ان خیالات و احساسات پر کام کرنے لگ جائیں جو اندیشےہمیں ستارہے ہیں، تو ہمارے مسئلے خود بخود کم ہو کر نصف رہ جائیں کیونکہ وسوسے، برے خیالات شیطان کی سازش ہے ،وہی ایسا چاہتا ہے اور اسی کوشیش میں لگا رہتا ہے کہ اس کے بندوں کو اس کی رحمت قدرت کی وسعت سے مایوس کر کے نہ امید کر ڈالے اور جب وہ رحمتِ خدا سے دور ہو جائے ، تو وہ باآسانی انہیں اپنے شکنجے میں گھیر کر پھر جو چاہے اس سے کراتا پھرے انسان چونکہ جلد باز ہے اور صبر اس سے کم ہی ہوتا ہے لہذا وہ اپنی اسی جلد بازی کی خصلت کی بنا پر غلط راستے کا انتخاب کر لے اور اپنی آخرت داؤ پر لگا دے۔
لہذا سب سے پہلے تو ہمیں مسئلوں کو قبول کر لینا چاہیے کیونکہ ریسرچ کہتی ہے اگر ہم اپنی پریشانیاں قبول کرلیں ،تو پھر اگلی باری ہماری، مسائل کے حل کی طرف آتی ہے کیونکہ ساری پریشانی کی جڑ ،خیالات کا منتشر و مضطرب ہونا خود کو ہلکان کرنا تب ہی ممکن ہوتا ہے جب ہم یہ سوچتے رہتے ہیں کہ کاش ایسا نہ ہوا ہوتا یا اب کیا ہوگا، اس وقت کچھ ایسا کر لیتا ، کہ یہ دن دیکھنا نہ پڑتا یا اپنی قسمت اور حالات اور اپنے ارد گرد لوگوں کو الزام ٹھہراتے رہنا،پچھتاوے کی آگ میں جلنا ،ایسی صورت میں مصیبتیں اور پریشانیاں اذیت کم ہونے کے بجاۓ سو فیصد بڑھے گی اور ساری توجہ حواس اور توانائی اسی پریشانی کی نذر ہو جاۓ گی ،نتیجاً اُلجھن ،ذہنی دباؤ اور شدید ڈیپریشن کے باعث ،بیماریاں تو آئیں گی مگرمسئلے تب بھی وہیں کے وہیں رہ جائیں گے دکھ ،تکلیفیں،مصیبتیں اور گِلے سے پاک تو شاید کوئی بشر نہیں، سب کے اپنے اپنے حالات اور معیار کے تحت مسائل ہوتے ہیں۔ مگر ان سے وہی چھٹکارا پاتا ہے اور اپنی زندگی خوش وخرم گزارتا ہے جو، اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے اور مصیبت میں گھبرانے کے بجائے قبول کرکے ثابت قدم رہتا ہے ،منفی خیالات اور فالتو اندیشوں سے خود کو بچا کر پُر امید رہتااور حل کے منصوبے بناتا اور اپنے رب کے سامنے سر بسجود ہو کر اپنے دکھ اسے پیش کرتا ہے ،التجا کرتا ہے کہ یا باری تعالیٰ تیری حکمت کامل ،قدرت کامل تو ہی مجھے آسانی اور قوت حوصلہ عطا فرما۔ بس پھر اس پررب فضل کرتا ہے اور اپنی رحمت کی آغوش میں لے لیتا ہے ورنہ اس کا دامن صبر اور اجر سے بھر دیتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں