یومِ آزادی کا پیغام۔۔۔۔۔
اپنے قائد کی محنت، بزرگوں کی دعائیں اور نوجوانوں کی قربانیوں کے سبب ہم آج ایک آزاد مملکت میں، آزادی اور چین سے جی رہے ہیں، اس کے لئے ہم دل سے ربِ کریم کے مشکور ہیں،یا خداہمارا ملک پاکستان سدا قائم رہے، ٰ ہمیں اس نعمتِ پاکستان کا حقیقی قدردان بنائے، اور ہمیں بھی اپنے وطن کے سچے خدمت گزاروں میں شامل کرلے، دشمنانِ ملک کے بددیانتوں سے جو اسے کھوکھلہ کرنے میں لگے ہیں،انکی سازشوں کو نست ونابود کرکے ملک کو امن وامان کا گہوارہ بناۓ۔
یومِ آزادی کے موقع پر یومِ آزادی کا پیغام ہے یہ،کہ ہمیں مجاہدین کی حصولِ آزادی کے لئے کی گئی محنت، کوششوں اور قربانیوں کو یوں غلاموں کی طرح ،آزاد ملک میں،غلامی میں جی کر رائیگاں نہیں کرنا چاہیے
ہم ذرا سوچیں، ہم آزاد ہیں، ہمارا آزادی کی لڑائی لڑنا اسلام کے لئے تھا، ہمارا نعرہ لا الہ الا اللہ کا تھا، غیروں کی نقالی سے گریز کا تھا، تو پھر کیوں ہم اپنے رہن سہن اور لباس میں مغرب کی نقالی کرتے ہیں؟کیوں دل کو اپنے مالک کے حکموں سے پھیر کر غیروں کے غلام بنتے ہیں؟ ہم آزاد ہیں،تو کیوں ہم اپنے آپ کو غلام بنا بیٹھے، آزادی کا مقصد آزاد ملک میں اسلام کے اصولوں پر آزادی سے عمل کرنا تھا،۔
آج ہم آزاد تو ہیں، لیکن ہم خود اسلامی طریقت سے اپنی زندگی کو بیگانہ کر بیٹھے، ہم اپنے مقصدیت کو کیوں فراموش کر بیٹھے؟کیوں ہم غیروں کی تقلید کے دلدادہ بن گئے؟مادیت پرستی، فیشن اور ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی چاہ میں حیا کو مار بیٹھے، آج دل بے ضمیر اور رب ناراض ہے، ہم یہ جان کر بھی انجان کیوں بن گئے؟
ہم مسلماں ہیں تو اپنے رب کی حکم عدولی نہیں کرسکتے، ہم اپنے آقا کے پابند ہیں ،اسکی خلاف ورزی کیوں کرتے ہیں؟، مُردہ ضمیر، نافرمان دل کے ساتھ ایک آزاد وطن میں،ہم آزادو خوشحال کیسے رہ سکتےہیں؟
ہم اپنی تہذیب اپنی روایت اپنے عقائد، اپنے مقصد،اور اپنے اصولوں کو کہیں بھول نہ جائیں، ۔
یہی سلسلہ چلتا رہا تو ڈر ہے اس بات کا کہ دل اگر غلام ہوجائے تو پھر آزادی غلامی میں بدل جائے گی، ہمیں اپنی سوچوں کو پاک کرنا ہے، اپنے دلوں کو صرف اپنے رب کے حکموں کا غلام بنانا ہے۔
بقول اقبال
تھاجو ناخوب، بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتاہےقوموں کا
ضمیر
ہم مسلماں الحمدللہ، غیرمسلموں کی تہذیب کو اپنا نہیں سکتے، حیا ایمان کی شاخ،اورملک کا امن ہے ،ہم اسے گنوا کر اپنے ایمان،ووطن کی سلامتی کو کھو نہیں سکتے، ہمارا اپنا اسلامی کلچر ہے ہماری اپنی روایات اسلامی ہیں، ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، رب کے بنائے ہوئے طریقے ہمارے پاس ہیں،ہمارے اپنے احکامات ہیں، اور عملی نمونہ ہمارے پاس ہیں، اپنے نبی کریمؐ کی سنت وطریقت موجود ہے، توہم کیوں غیروں کی تقلید میں اپنے لئے بربادی کا سامان کریں؟ آئیں پھر مل کر ہم اسے دینِ اسلام کے اصولوں سے آراستہ کرتے ہیں، اپنی زندگی اور اپنے گھروں سے اس کی شروعات کرتے ہیں۔
اے خدا ہمیں ہمت دے، کہ ہم اپنے دلوں کو نفس کی غلامی، بے لگام خواہشوں اور اپنے رب کی نافرمانی سے ہٹاکر، آزادملک کی طرح آزاد ضمیر بن سکیں۔ اللہ ہمارے ملک کی آزادی کو سلامت رکھے آمین۔
پاکستان زندہ باد
Nice sharing
جواب دیںحذف کریںNice
جواب دیںحذف کریںپاکستان زندہ باد
جواب دیںحذف کریں