اشاعتیں

مئی, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

زبان کے تیر

تصویر
 بعض لوگ طبیتاًاور مزاجاًاتنے سخت بد زبان اوربدمزاج ہوتے ہیں کہ جوبھی ان سے ملے ان کی زبان سے محفوظ نہ رہ پائے  ان  کی زباں کے تیرنے کتنے ہی دل چھلنی کر دیے قطعہ نظر یہ اس سے بلکل بے خبر وانجان ہوتے ہیں۔۔ لوگوں کی امیدوں کوتوڑنا،ان کے جذبات سے کھیلنا اپنی زبان یا دیگراعضاءسے دوسروں کے لئے اذیت و تکلیف کاباعث بننا  یہ خود ایسے لوگوں کے اپنے لئے بھی بے سکونی اوردونوں جہاں کی بربادی کا کام ہے۔ کیوں کہ زبان کی حفاظت ایمان  کی حفاظت ہے۔جس نے اسے کنٹرول کرلیا اس سے نکلنے  والے نشتر کو روک لیا اس نے اپنا ایمان اوردین محفوظ کرلیا۔۔  ایسے مزاج والے انسانوں سےغالباً ہرایک کا واسطہ پڑتا ہی ہے کیوں کہ جب انسانوں میں خیالات و  نظریات کا تضاد ہے تو  اپنی  مرضی نہ ہونے پر گلہ شکوہ شکایات کی کسر ایسے لوگ  ظنز بازی اور تنقید سے پوری کرتے ہیں۔ ہر گھر کی اک کہانی، اور تقریباً ہر گھر میں ہی کوئی نہ کوئی ایسا موجود ہوتا ہے جو زبان کی تیزی کا شکار ہوتا ہے۔ کہیں ساس کی وجہ سے بہو پریشان تو کہیں بہوہی ظالم ہے،کہیں بیوی شوہر کی بد مزاجی سے ہلکان ہے تو کہیں...

مفہومِ زندگی ۔۔

تصویر
" قدرت کی طرف سے عطا کردہ زندگی مختصر ہے  لیکن اچھی طرح گزاری گئی زندگی کی یاد لامتناہی ہے" (سیسیرو")  زندگی سب  گزار رہیں ہے۔اور یہ گزر ہی جانی ہے۔۔چاہے خوشی سے گذرے یا حالات کا رونا روتے ہوۓ، اطاعتِ ربانی میں یا اسکی نافرمانی میں ۔۔۔  اپنے مخصوص اوقات جو ہر انسان اس دنیا میں لے کر آیا ہے اس کے پورا ہوتے ہی مزید مہلت اسے نہیں ملنی، زندگی ختم ہو جاۓ گی۔۔اصل غفلت ہماری اپنی زندگی اور اس کے قیمتی اوقات سے ناقدری ،وقت کا صحیح استعمال اور اس کے اصل مفہوم سے بے خبری ہے۔  زندگی کے مفہوم سے جو آشنا ہو جاۓ، وہ اپنے ملے گیے محدود اوقات کوبا مقصد و با معنی گزارتا ہے،اور ایسے تمام  کاموں سے بچتا ہے، جو اس کےقیمتی لمحات کو نگل جائیں،اسے اپنے مقصد سے دور کردیں اور  وقت کی ایسے قدر کرتا ہے، جیسے اس کے یہ لمحات آخری ہوں،۔۔۔۔اور نہ جانے کب اس سے لے لیے جائیں۔  یہ حقیقت ہے کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں۔۔۔ اس کی کوئی خاص عمر کوئی حد  کوئی جگہ طے شدہ نہیں ۔۔جب جس کے پاس آنی ہو آکر رہتی ہے۔۔۔ مگر افسوس ہم زندگی کو بنا مقصد، غیر اہم کاموں میں ایسے گزار دیتے ہیں ج...

مشکلات انسان کو عظیم بناتی ہیں مگر کیسے۔۔؟

تصویر
 اس طرح کے جملے جو ہم اور آپ باکثرت سنتے ہیں وہ یہ کہ  مشکلات انسان کو مضبوط کرتی ہیں، انسان تکلیفوں، مصیبتوں سے گزر کر ہی عظمتوں کی بلندی تک پہنچتا ہے۔۔۔  مگر لوگوں کی اکثریت ایسی باتوں کو محض کتابی و خواب ہی گردانتی ہے جبکہ یہ حقیقت ہے اگر تاریخ سازوں اور غیر معمولی لوگوں کی زندگیوں کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوگا ان سب کی زندگی خطرات، چیلنجیزومشکلات سےخالی نہ تھی۔۔۔ مگر انہوں نے راستے میں آنےوالی رکاوٹوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہمت و بہادری سے آگے بڑھ جانے کو فوقیت دی۔ سوال یہ ہے کہ۔۔۔؟  جب ہمیں اچانک کسی مصیبت و  مسائل کا سامناکرناپڑے تو ہم کیوں خود کو بہتر کرنےاور تدبیروں پر اپنا فوکس برھانے کے بجاۓ ڈیپریس ہوکرمایوس ہو جاتے ہیں کہ ہمت ہار بیٹھتے،خود کو قابل ترس شمار کرتے اور کسی نہ کسی وجہ سے اس کا الزام دوسروں کو ٹہراتے مسئلوں کو بڑھنے کے لۓ مزید ٹالتے رہتے  ہیں اور شک،وسوسے،اور دیگرمنفی خیالات میں گِھرکراپنی ذہنی حالت ہی کو متاثر کر ڈالتے ہیں۔۔ اس کی اہم وجہ ایمان اور  اللہ پر یقین کی کمزوری اور اس سےہمارے تعلقات کی دوری ہے۔ ۔ مومن کا اپنے مالک ...

استاد کی تعظیم وادب کو فروغ دیں۔۔۔

تصویر
 یوں تو اللہ عزوجل نے تمام رشتے ہی جو ہم انسان کے لیے بنائے وہ قابل محترم ہیں مگر والدین کے بعد جنھیں روحانی والدین کا درجہ حاصل ہے وہ رشتہ اس دھرتی پر" استاد" کا ہے۔  عظیم قوم،کامیاب معاشرہ، مثبت ذہن سازی،حصول علم، شوقِ تحصیل علم، ملک کی ترقی و کامیابی، فرد کی بہترین تربیت، ملت کی خدمت کا جذبہ ابھاڑنے ، طلبہ کواچھا شہری اور باکرداربنانے میں استاد ہی کار فرما ہے۔ غرض یہ کہ استاد کی بے پایہ خدمات کے بعد معاشرے کے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ ان کی عظمت کو پہچانیں اورنہ صرف طلباء بلکہ عالمی وقومی سطح پر زندگی کے ہر شعبے میں استاد کا درجہ اہمیت و قدر و عظمت کو محترم جانیں اور دل سے ان کی تعظیم کریں۔ بلاشبہ استاد کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے استاد کا عالمی دن منایا جاتا ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ استاد کی قدر و عظمت کو ہر کوئی جانتا تو ہے مگر مانتا کم ہے اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا جدید ٹیکنالوجی اور بڑھتی ہوئی نت نئی ایجادات کی موجودگی میں استاد کے ادب و احترام کا گراف گرا ہے۔  ہمارے دل میں اپنے استاد کا احترام  عقیدت و محبت اور جذبہِ خدمت  کاجو ...

سیرتِ زینب کبریٰؓ بنتِ علیؓ۔۔۔۔

تصویر
 تاریخ الاسلام کی عظیم الشان شخصیات میں سے ایک اہم شخصیت جن کے نانا سرور کائنات، رحمت العالمین محبوب خدا ،سردار الانبیاء حضرت  محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور نانی اول خاتونِ اسلام امّ المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰؓ اور والد شیرِخدا،علم کا دروازہ،شجاعت و بہادری کا بے مثال پیکر حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور  والدہ رسولِؐ خدا کی لختِ جگر خاتونِ جنت حضرت فاطمہ الزہرا  بتولؓ اور بھائی  جوانانِ جنت کے سردار حضرت حسنؓ اور حسینؓ اور چچا محبوبِ رسول حضرت جعفر طیّارؓ شہید موتہ اور ان کے شوہر عبداللہ بن جعفر طیّار تھے اس زمیں پر مقدس گھرانے کی وہ محترم ہستی حضرت زینبؓ کبریٰ ہیں۔  آپؓ مستند روایات کے مطابق جمادی الاولیٰ ۵ ہجری میں پیدا ہوئیں۔آپؐ نے خود انکا نام زینب تجویز کیا اور اپنا لعابِ مبارک ان کے منہ می‍ں ڈالا اپنے بھائیو‍ں کی طرح آپؓ بھی اپنے نانا کی بے حد لاڈلی تھیں آپؓ کی کنیت امّ الحسن یا بروایت دیگر امّ کلثوم تھی۔دل سوز واقعہِ کربلا کے بعد امّ المصائب بھی آپؓ کی کنیت مشہور ہوگئی۔ ناموس الکبریٰ،صِدّیقتہ الصغریٰ شجاعہ،فصیحہ،بلیغہ،زاہدہ فاضلہ، خاتونِ کربلا آپؓ ک...

کیوں نہ ایک اور سہی۔۔۔۔

تصویر
 اللہ نے جس کا حکم دیا وہ  نقصان دہ کیسے ہو سکتا ہے اور جس کے کرنے سے منع کیا وہ فائدہ مند کیوں ہوگا ۔۔ اتنی سی بات ہم سمجھ نہیں پاتے جان کر بھی ہم وہ کام کرتے ہیں اور کر جاتے ہیں جس کی اس نے اجازت نہیں دی۔جب اس نے کہا رک جاؤ ٹھہر جاؤ آگے نہ بڑھو باز آ جاؤ پھر بھی اگر ہم یہ سوچ کر بڑھۓ ،اور بڑھتے ہی جارہے ہیں کہ سب ہی تو کرتے ہیں یا پھر یہ کہیں گناہ سے پاک ہم پہلے کب ہیں اور "نافرمانی گناہ بھی تو  کرتے ہی ہیں تو پھر ایک اور سہی" تو یہ کیا ہے؟ کیا جانتےبوجھتے ہوئے بھی  وہ نافرمانی کی جائے جس کا معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ  نے منع کیا ہے اور جس کے کرنے سے وہ ناراض ہو گا تو ایسے گناہ کی تو شاید معافی بھی نہ ملے۔   معافی کے لئے بھی عاجزی ضروری ہے وہی معافی قابلِ قبول ہوتی ہے جب بندہ عاجز اور شرمسار ہو کر اس کی بارگاہ میں جھکے اور عرضی پیش کرے کہ یا باری تعالی غلطی ہوگئی۔ میں کمزور ہوں  اپنے نفس کو روک نہ پایا مگر اب یہ عہد کرتا ہوں کہ دوبارہ نہیں ہوگا۔ لیکن اگر  اکڑ میں ضد میں ہٹ دھرمی میں غلطی پر غلطی مسلسل کی جائے کہ سواۓ اسکے، اب کوئی چارہ نہیں ،د...

بُرائی کا طعنہ۔۔۔۔۔

 آج بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں زیادہ تر لوگوں کا مزاج کچھ ایسا ہےکہ وہ اپنی اصلاح کی طرف کم ہی توجہ دیتے ہیں۔۔لوگوں کی اچھائیوں کو بمشکل ہضم،مگر خامیوں کو اُچھالنے کا ہنر خاص رکھتے ہیں، مسئلہ تب اور  زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے ‏جب انسان خود کو اپنی نگاہ میں بھلااور دوسروں کو بُرا سمجھنے لگے۔ ہر شخص اپنے جذبات تجربات اور اپنی سوچ و نظریات کے لحاظ سے دوسروں سے مختلف ہوتا ہے یہ تضاد فطری ہے مگر انسان دنیا کو اپنے جیسا دیکھنے اپنے جیسا بنانے کا اتنا خواہش مند نظر آتا ہے کہ دوسروں کی ٹوہ میں، اصلاحِ خودی کو  ہی نظرانداز کر بیٹھتا ہے۔  نتیجاً دوسروں کے عیب تو دیکھائی دیتے ہیں اسے،مگر خود کے عیب نہیں دِکھتے، اپنےبناۓ گئے اصول اور ضابطے کو  اولین جانتا اور دوسروں کو حقیر گردانتا ہے،، خود کو تبدیل کرنے کے بجائے دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی چاہ رکھتا ہے، چھوٹے چھوٹے مسئلوں کو درگزر کرنے،لوگوں کو معاف کرنے کے بجائے جھگڑوں کو طول دینے،اپنی زیادتیوں کا فوراً بدلہ لینے  کی سازیشوں اور ہر وقت کسی نہ کسی بہانے سے دوسروں کی ٹانگ کھینچنے کا موقع تلاش کرنے میں مشغول رہ...

اپنی کامیابی کو رب کی مہربانی جانیں ۔۔۔

 انسان کو جب نت نئی نعمتیں، دولت، آسائشیں،، ہر طرح کا چین وسکھ اور ڈھیروں آسانیاں نصیب ہو جائے تو وہ اسےاللہ کا کرم و فضل سمجھنے کے بجائے اپنی خوبیوں و قابلیت کا حاصل سمجھنے لگتا ِِاِتراتااورفخر شروع کردیتا ہے  ایسے لوگ جنہیں اگر  اُس جیسی نعمتیں وآسانیاں میسر نہیں یا کسی وجہ سے کسی مشکل و پریشانی میں مبتلا ہوں تو انہیں ان کی نااہلیوں اور خامیوں کا سبب سمجھتا اور بعض اوقات انھیں انکی محرومی کا طعنہ دینے لگتا ہے۔۔۔  انسان جو کہ فطرتاً ناشکرا ہے شکر کم ہی کرتا ہے اس کی عطا اور دین کو اپنا حق اور خود کو بڑا قابل و معتبر جان کر بڑے بڑے دعوے کرتا دوسروں  کو ان کی کم مائیگی کا احساس دلاتا پھرتا  اور  خود کو کامیابی کے قابل افلاطون سمجھ کر ناز کرتا ہے۔۔۔یہ سچ ہے کہ انسان اپنے حالات کا کافی حد تک خود ذمہ دار ہوتا ہے،اسکی زندگی اسکے خیالات،نظریات،و رویئے کا عکس ہوتی ہے مگر تقدیر کا فیصلہ کبھی اختیار سے بڑھ کہ بھی ہوتا ہے۔۔  بغیر اس کی چاہ کے کچھ بھی ممکن نہیں، یہ اُس کا ارادہ ہے،، جسے چاہے نواز دے اور جسے چاہے محروم رکھے۔۔۔۔ ہم اس کی رضا کے محتاج ہیں فرما...

یہ وبال ہے۔۔۔۔

 کرونا ایک ایسا وائرس جس کی طاقت نے ساری دھرتی کو جھنجوڑ ڈالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترقی یافتہ اقوام کی معاشی دیواروں کو ہلا ڈالا۔۔۔۔ تعلیمی ادارے اور مراکز بند، تجارتی سرگرمیاں موقوف،، مذہبی و دینی فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹیں،  سڑکیں اور شہر سنسان،، گھر سے نکلنے اور آنے جانے پر پابندی،، دنیا بھر کے نامور سائنسدان بھی پریشان،، ماہر اور تجربہ کار ڈاکٹرز مایوس،، لوگ خوفزدہ،، ہر طرف حفاظتی تدابیر اور بچاؤ کے طریقوں پر غور و خوض،، پوری دنیا میں تیزی سے پھیلتی ہوئی یہ افسردگی گہماگہمی اور  بے چینی۔۔۔۔ اب تک اس کا کوئی سدباب نہیں۔۔۔۔؟  اسے کنٹرول کرنے کا کوئی خاص طریقہ کار نہیں۔۔۔۔۔ْ؟ کوئیْ مثبت علاج نہیں۔۔۔۔۔؟ یہ عذاب ہے ہماری بڑھتی ہوئی نافرمانیوں کا۔۔۔۔۔۔ یہ وبال ہے ہماری بےراہ روی اور گمراہیوں کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ضرورت ہے کہ اپنے بھولے ہوئے خالق کو پکارا جائے۔۔۔۔۔۔ یہی وقت ہے کہ زیادہ سے زیادہ استغفار کیا جائے اس سے پناہ  مانگی جائےِ۔۔۔اس سے بخشیش طلب کی جائے اپنے لئے بخشیش ۔۔۔۔۔، ساری دھرتی کے انسانوں کے لئے بخشیش۔ِ۔۔۔۔  اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راہ فرار نہیں۔۔۔۔ْ؟۔...

کامیابی ضرور آپ کی ہوگی۔۔۔

   سب کی طرح ،پہلےمیرا بھی یہی فلسفہ تھا کہ سارے تاریخ ساز اور غیر معمولی عظیم لوگ پیدائشی طورپر انتہائی ذہین،، اعلٰیٰ فطرت،، عظیم تخلیق کار،، خاص صلاحیت و دیگر لاتعداد خوبیوں کا مجوعہ ہوتے ہیں۔۔ تب ہی وہ شاندار  کامیابی حاصل کرتے اور غیر معمولی زندگی جیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر جب ایسے لوگوں کی زندگیوں پر میں نے غور کیا تو میرا فلسفہ یکسر غلط ثابت ہوا۔۔ تحقیق کہتی ہے کہ ہر فرد ہی عظیم بن سکتا ہے اور اپنے کام میں بغیر کسی خاص ذہانت کے کمالِ مہارت حاصل کر سکتا ہے،بشرطِ ہے کہ وہ محنتی،، اپنے کام سے خاص لگاؤ و شوق رکھتا ہو۔۔۔ اور مزید بہتری و کمال حاصل کرنے کا خواہشمند ہو۔۔۔۔ اور اس کے لیے روز اپنے کام کی مشق وکوششوں میں سرگرم رہتا ہو۔۔۔ اور راہ میں حائل بڑی سی بڑی رکاوٹوں کو کچل کر آگے بڑھ جانے کا ہنر جانتا ہوں۔۔معروف فلسفی فریڈریخ نائزی کے یہ الفاظ جو بڑے معنی خیز ہیں" کہ خدا داد قابلیت ،، پیدائشی خوبی کی بات نہ کرو،، ایسے عظیم لوگوں کے نام گنوائے جا سکتے ہیں جن کے پاس بہت کم قابلیت تھی۔۔ لیکن انہوں نے عظمت حاصل کی، وہ ذہین بنے۔"  مسلسل اور لگاتار محنت، ہمت صبرو استقامت اور...

خزانے کی چابی ۔۔۔۔

 جہاں شکر ایک نعمت ہے اور اس کی وجہ سے ہمیں انگنت نعمتیں حاصل ہوتی ہیں۔ اسی طرح نا شکری( کفرانِ نعمت )ایک وبال ہے اور اس وبال کے سبب کئی  مصیبتیں نازل ہوتی ہیں۔ جانے انجانے میں یہ "نا شکری" ہم سے کئی نعمتوں کو چھین رہی ہوتی ہے۔ بظاہر ہمیں اس کا اندازہ صرف تب ہی ہوتا ہے جب وہ نعمت ہم سے واپس لے لی جاتی ہے، ہمارا ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔ اور ہم اپنی کی گئی ناشکری کی اپنے رب کے حضور معافی مانگتے ہیں۔ اور اس کی نوازی گئی نعمتوں کو محسوس  کرکےشکر ادا کرنے لگتے ہیں۔  ناشکری کا جو سب سے بڑا نقصان ہے جس کا ہمیں معلوم بھی نہیں ہوتا وہ ہمارے ایمان کا کم ہونا ،اس کی رحمت سے دوری اور اس کی یاد سے غفلت اور اس سے ربط و تعلق کا بگڑ  جانا ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جو ساری نعمتوں سے بھاری ہے۔اگر یہ نعمت چھین لی جائے تو زندگی پھیکی اور بے معنی ہے۔ ہمیں خود پر غور کرنا چاہیے کہ جب کہیں ہمارا ربط خدا تعالی سے کمزور پڑنے لگے،دل خود ناشکری کی طرف راغب ہو اور شکر سے زبان خالی ہونے لگے اور اس کا ذکر زبان پر زیادہ دیرتک نہ ٹھہر سکے تو یہ نشانی ہے کہ وہ مہربان رب جس کی بے شمار نعمتیں اور فضل ہم پر ہر...

اعتراف

غلطیاں سب ہی سے ہوتی ہیں،خطا سے پاک کوئی بشر نہیں ،انسان غلطیوں سے تب ہی سیکھتا ہے ۔۔جب وہ اپنی غلطی  کااعتراف،اقرار کرنا جانتا ہو،خطا کرنے سے زیادہ بڑا جُرم اعتراف نہ کرنا ہے۔۔۔۔ کیونکہ احساسِ ندامت تب ہی بیدار ہوتا ہے جب انسان کا ضمیر زندہ ہو،ضمیر اگر مردہ ہو جائے ،تو۔۔۔۔،آنکھوں کے باوجود اسے کچھ دیکھائی نہیں دیتا،کان ہوتے ہیں پر،کچھ سنائی نہیں دیتا،عقل،شعور کے ہوتے ہوئے بھی اسکا سیکھا ہوا علم و فہم اس کے کچھ کام نہیں آتا اور وہ گمراہی کے رستے پر چل نکلتا ہے‌‌‌‌‌‌۔۔۔‌‌، آج لوگوں کی اکثریت یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ غلط وہ بھی ہو سکتے ہیں ،خطا ان سے بھی ہو سکتی ہے،خطا کا اقرار اور اسکا اعتراف تو دور کی بات ہے  جب پہلےوہ، اپنے غلط ہونے پر  آمادہ تو ہوں۔۔۔۔،معاشرے میں زیادہ تر جھگڑے و رنجیشیں اس لیۓ طول پکڑتی ہیں کیونکہ سب اپنی ،اپنی جگہ خود کو صحیح و پرفیکٹ سمجھتے ہیں اگر غلطی مان کر معافی مانگ لی جاۓ ،معاف کر دیا جاۓ،تو کئی مسائل حل ہو  جائیں،محبتیں برقرار رہیں، رشتے قائم رہیں،گھروں میں سکون،اور معاشرے میں امن رواں دواں رہے۔۔۔۔۔،،مگر ایسا ہوتا نہیں۔۔۔؟سوال یہ ہے ک...

فیض۔۔۔۔۔۔۔

 اللہ عزوجل فرماتا ہے" ہم نے تمہیں جو رزق دیا ہے اسے وہ دن(قیامت والے دن) کے آنے سے پہلے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کرو" (سورۃ البقرہ )  اللہ سبحانہ وتعالی اپنی راہ میں رزق خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے۔۔ اس کے بندوں پر اوردین کے کاموں پرخرچ اس کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔۔ رزق سے مراد صرف پیسہ نہیں ہے ضروری نہیں کہ آپ لوگوں کی مدد صرف پیسے ہی سے کریں۔۔۔۔بے شک اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا مال سے لوگوں کی مدد کرنا۔۔۔۔۔ ایک اعلٰی درجہ کی نیکی ہے مگر اللہ نے جس کسی کو جو بھی دیا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اس سے اپنے ملک و معاشرے اور دین کو فیض دیے۔۔۔۔۔۔ لوگو‍‍ں کا ہمدرد اور خیر خواہ بنے۔۔اگر کسی کے پاس مال ودولت نہیں تو پھر جو بھی ہے اسی کو فائدہ دینے کے لئے استعمال کرے۔۔۔۔۔۔ طاقت ہے تو طاقت سے صحت ہے تو صحت سے علم،عقل ،فہم ،مشاہدہ و تجربہ ہے تو اس کے ذریعے ہی لوگوں کی رہنمائی کرے۔۔۔  کسی کو صحیح راستہ دکھاۓ ۔۔  صحیح سمت ،اصل منزل کا پتہ بتاۓ تو کسی کو نئی مثبت سوچ, بھلا شوق دے ۔۔۔ کسی کے غم کی دوا اور سکون کی وجہ بنے۔۔۔۔ امید دے حوصلہ دے۔۔۔اور کسی کو یہ یقین کہ تم معمولی نہیں انمول ہو...

توقعات کا بوجھ۔۔۔۔۔۔

 ہر انسان اپنی سوچ نظریات فلسفے عقائد اور تجربات کی بنیاد پر اپنے بنائے گئے ضابطے و قوائد کے تحت  زندگی گذارتا ہے۔۔۔۔ یہ نظریات و فلسفہ اس کے سیکھے گئے علم مشاہدہ یا ماضی کے تجربات کے ذریعے اس کے ذہین کے پردے میں نقش ہو جاتے ہیں۔۔ اور اگر وہ چاہے کہ اس کے بنائے گئے قوانین و اصول کے تحت ہر انسان خصوصاً جس کا اس سے واسطہ پڑے وہ  بھی زندگی گزارنے لگے تو  ایسا  نہ ممکن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے مزاج کے خلاف ،توقعات کا، پورا نہ ہونے پر آپ کا لوگوں سے روٹھنا،گلہ شکوہ شکایت کرنا  کوئی  معقول وجہ نہیں۔۔ انسانوں پر اپنے فیصلے زبردستی ٹھونسنے کا حق ہمیں ہرگز حاصل نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے اپنے علم مشاہدے و عقائد کے مطابق کسی کی رائے کو تسلیم یا اس کے اصولوں کو فولو کرنا یا نہ کرنا ہر شخص کا اپنا حق ہے۔۔۔ یہ بات جو انسان جتنا جلدی سمجھ لے وہ زیادہ خوش اور شکر گزار رہتا ہے۔۔۔۔۔ شکرگزاری وخوشی یہ ایسی چیزیں ہیں جسے حاصل ہوجائیں ترقی کامرانی و کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ شکوہ شکایت  کی عادت  انسان کو ناخوش رکھتی ہے ۔ اس کی نہ صرف کارکردگی متاثر ہوتی ہےبلک...

حیا ہی زندگی ہے۔۔

 حیا معاشرے کا حسن ،زندگی کا سکون ایمان کی شاخ،اخلاق کا نچوڑ،اسلام کا نور،ربّ تعالی کا حکم ،معاشرتی وسماجی نکھار ہے۔ حیا کا لفظ حیات سے ہے یعنی حیا زندگی  ہے دل کی اصلاح زندگیوں میں سنوار معاشرے کا امن حیا کہ بغیر  ناممکن ہے۔ حیا ہی بے راہ روی اور بے حیائی سے روکتی ہے۔حیا نہ صرف لباس اور نظر میں بلکہ زندگی کے ہر عمل میں نظر آنے کا نام ہے۔  آج لوگوں میں گناہوں کی طرف حدسے بڑھتی ہوئی رغبتی کا سبب دلوں سے حیا کا رخصت ہو جانا ہے۔حیااتنی ہو باقی کہ جب دل اپنے رب کی نافرمانی کی طرف لپکے تو اس کے ڈر اور خوف کی وجہ سے لرز اٹھے اور پیچھے ہٹ جائے مگر کرکے گناہ اگر احساس ندامت اور شرمندگی بھی نہ ہو تو اس بات کی علامت ہے کہ ایمان بھی باقی نہ بچا ہے مومن کی شان حیا ہے۔ آپﷺکا فرمانِ عالی شان ہے"حیا جز وایمان ہے" آپﷺاپنی عملی زندگی میں بھی سب سے زیادہ شرم و حیا کے پیکر تھے۔آج ہمارے معاشرے کلچر اور ہماری روایت میں اسلام کی جھلک کم غیر مسلم معاشرے کی مشابہت زیادہ دکھائی دے رہی ہے۔ ہم جس ٹرینڈ،رواج ،فیشن کی پیروی میں لگے ہیں وہ ہمارے  مذہب کے خلاف ہے۔ایک باحیا معاشرہ مسلم معاشرے...

کیا شکوہ ہمیں جچتا ہے؟

 غم خوشی ،سکھ ،تکالیف و مصائب یہ سب زندگی کا حصہ ہیں زندگی نشیب و فراز کا مجموعہ ہے کبھی خوشی کبھی غم کبھی حالات سازگار تو کبھی نا ساز، اچھائی برائی بدی اور نیکی  یہ جب تک دنیا ہے قائم رہے گا معاشرے سے بدی کم تو ہوسکتی ہے پر خالی نہیں ہو سکتی  ہر دور میں ایسا ہوتا آرہا ہے کوئی شیطان کے حوالے اپنے نفس کو کر ڈالے گا تو کوئی اپنے رب کے لیے اپنے نفس کو ہی کچل ڈالے گااسی بنا پر تو دنیا امتحانِ جاہ ہے یہ آزمائش ہے ہمیں آزمایا جائے گا سب کچھ دے کر تو کبھی چھین کر کبھی زیادہ سے تو کبھی قلت سے کبھی بھوک سے کبھی فراوانی سے کبھی صحت سے تو کبھی وبا سے۔بس کمال یہ ہے اور کامیابی بھی تب ہی ہے جب انسان ثابت قدم رہےِ من چاہے حالات کے برخلاف بھی ناشکرا نہ بنے روئے پیٹے نہ واویلا نہ کرے،بلکہ صبر استقامت سے کام لے اور اپنا رجوع اس کی طرف اور بڑھا دے جو قادرِ مطلق ہے جس کے سامنے ہم بے بس ہیں جس کی چاہ پر ہمارے مقدر منحصر ہیں جس کی رضا ہی ہمارا اصل مقصد ہے۔۔ جس کی خوشنودی ہماری منزل ہے۔ مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ جب حالات ہمارے موافق ہوں سب کچھ عطا ہو۔۔ تب تو ہم بڑے خوش رہتے ہیں اور شکر بھی کرتے ...

کورونا سےخوفزدہ، پر رب سے بے خوف

  کورونا وائرس کا خوف جو سب پر طاری ہےاس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر بھی کی جارہی ہیں جو کہ لازماً  ضروری ہے مگر اس وائرس کا بھی قادر ہم سب کا رب جس کے حضور ہمیں ایک دن پیش ہونا ہے اس کی نہ کوئی تیاری،فکر نہ اسکی ناراضگی سے بچنے کی کوئی احتیاط،کوئی تدبیر۔  ہمارا رب ہم سے ناراض ہیں اس کی ہمیں پرواہ ہے نہ کوئی غم،ڈر ہے تو اس وائرس کا، مگر اپنے گناہوں اور نافرمانیوں کا کوئی ڈر نہیں۔جب وہ ناراض ہو تو وبائیں بھیجتا ہے۔اس وائرس سے موت کا خطرہ کم مگر اچانک کسی بھی لمحے موت کے آجانے کا خطرہ سو فیصد ہے۔ موت اٹل ہے ہر ذی جان کو اس کا مزہ چکھنا ہے آج نہیں تو کل آئے گی ضرور ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے" تم جہاں بھی ہو گے( ایک نا ایک دن )موت تمہیں جا پکڑے گی چاہے تم مضبوط قلعوں میں کیوں نہ رہ رہے ہو"کیا ہم تیار ہیں اتنا حوصلہ ہے کہ اس کے سامنے شرمندہ نہ ہوں اپنے اعمالوں کا حساب دے سکیں۔ نیکی کی قبولیت بے شک اسکے اختیار میں مگر ہماری یہ کوشیش جاری تو ہو۔   ہم کیوں غافل ہوگئے کیوں دور ہو گئے ایسے پیارے رحیم رب کے نافرمان بن  گئے۔ رسول اکرم صلی وسلم نے فرمایا  اللہ تعالی...

زندگی اداس کیوں ہے۔۔؟

  کبھی تو زندگی اتنی سہل خوبصورت لگنے لگتی کہ ہر نظارہ دلکش و دلنشیں  دیکھائی دیتا،تو کبھی نجانے کیوں  اس قدر اداس،کھٹن کیوں محسوس ہوتی کہ دشوار لگنے لگتی۔۔۔۔ یقینا یہ ہمارےدل کی کیفیت ہمارے جذبات کا عکس ہوتی ہے جس کے  مطابق  زندگی ہمیں ویسی ہی محسوس ہو رہی ہوتی ہے جذبات مثبت تو زندگی خوشنما،پرسکون،اور جب خیالات تنگ ہوجائے تو زندگی اچانک تلخ ،بدنما ہوجاتی ہے۔کیا ہی نظارہ ہو اگر دل کی کیفیت نہ بدلے زندگی سے سکون نہ جائے ہمیشہ موسم بہار رہے ،کبھی خزاں نہ آئے ،قدم نہ ڈگمگائیں ،نظر نہ بھٹکے ،سکون بھی سلامت رہے، روح بھی امن پائے اور ہمیشہ کا قرار میسر آجائے۔۔ پرسکون زندگی اک خواب نہیں ایسا ممکن ہے تو کیا ہے وہ نسخہ جس پر عمل درآمد کریں زندگی کی تلخیاں کم ہوجائے  قوت صبر میں اضافہ ،شکوے کم اور خوشیاں بڑھ جائیں تووہ نسخہ "شکر گزار بننا" اور "نا شکری" سے بچنا ہے۔    شکر خوشی اور سکون کا  باعث جب کہ غم ناشکری کی سزا ہے، غم میں بھی اگر شکر گزاری کو اختیار کیا جائے تو کم لگنے لگتا ہے اور عجب راحت و سکون اس کا نصیب بنتا ہے ۔جوکھو کر بھی شکر نہ چھوڑ...

توکل،صبراور خوفِ الہی۔۔۔

 بہترین زندگی گذارنے اور دونوں جہاں کی فلاح کے اہم راز صبر ،توکل اور خوفِ الہی ہیں جو اس کو پا لے اس کے مطابق عمل میں خود کو ڈھال لے دائمی سکون اس کا نصیب بن جاتا ہے پھر ناساز حالات اسے توڑتے نہیں بلکہ مضبوط بناتے ہیں خدا پر اسکا اعتماد اسے ہر مشکل سے لڑ جانے کی قوت بخشتا ہے خوف الہی اسے سارے خوفوں سے آزاد کر کے بہادر انسان بنا دیتا ہے۔ توکل اور خوف الہی کی کمی انسان کو بے صبرا اور بزدل بنا کر مایوسی کے گڑھے میں دھکیل کرجینے کی امید بھی چھین لیتی ہے۔۔اور گناہوں کی کثرت بھی تب اور بڑھنے لگتی ہے جب اعتماد مانند پڑنے لگے خوفِ خدا رخصت ہو جائے اور صبر پھسل جائے۔  آج معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اضطراب غصہ انتقام اور بہت سی دوسری  پھیلتی ہوئی برائیوں کی اصل وجہ اللہ پر توکل مضبوط نہ ہونا اور اس کے خوف کا کمزور پڑنا ہے۔ کامل مومن وہی ہے جس کا اپنے رب پر توکل کامل ہو اور خوف الہی حاوی ہو ۔۔ ارشاد باری تعالی ہوتا ہے" یہ قرآن مجید ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں"  یہ ڈرہی ہے جو انہیں بچاتا ہے اس کے غضب سے گناہوں سے ناراضگی سے جہنم سے  اور ...

کیوں عمل سے دامن خالی ہے؟

 علم اگر عمل میں ہوتو وہ خود پوری دنیا میں چار سو پھیل جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمارے پیارے نبیﷺ نے جو فرمایا ،بذات خود عملی نمونہ پیش کیا۔ جن سے متاثر ہو کر ہزاروں جہالت و کفر میں ڈوبے ہوئے دل خود روشن ہو گئے۔ آپﷺ کے حسنِ اخلاق کے سب ہی گرویدہ تھے۔ حتیٰ کہ جنہوں نے اپنی ضد و ہٹ دھرمی سے دینِ حق کا انکار کیا وہ بھی آپؐ کی صداقت ایمانداری اور دیانتداری کے سامنے جھک گئے۔ یوں آپؐ نے اپنے اخلاق،طرزِ زندگی وطرزِعمل سے پوری دنیا کو علم کی روشنی سے منور کردیا۔آپ کے ساتھی صحابہ کرامؓ نے پھر اس روشنی کو اپنے دل میں اس طرح سمویا ، عمل میں اتارا اور خود کو اتباعِ سنت کے مطابق مکمل ڈھال لیا۔ پھر ان کے عمل کے دیے سے یہ روشنی آگے سے آگے بڑھتی گئی۔  در حقیقت عمل سے ہی علم زندہ ہے ،بغیرعمل کےعلم ادھورا ہے۔  کہنے والا اپنی صداقت پر اسی وقت پورا اترتا ہے جب وہ جو کہے اس کے اعمال میں لازمی شامل ہو، تاثیر بھی تب ہی ملتی ہے اور بات بھی دور‌تلک جاتی ہے۔ بغیر عمل کے علم مِٹ جاتا ہے۔ علم و عمل لازم و ملزوم ہیں ۔رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے" علم بغیر عمل وبال ہے اور عمل،بغیر علم  گمراہی ہے...

ڈھونڈنے سے نہیں، سکون دینے سے ملتا ہے

 ہم سب جانتے ہیں کہ زندگی غم اور خوشی دونوں کا مجموعہ ہے۔ ہر وقت خوشی کا سماں رہے مشکلوں اور چیلنجز کا سامنا نہ کرنا پڑے، ہر خواہش پوری ہو۔ من پسند حالات رہیں۔کبھی دل بے چین نہ ہو تو ایسا سوچنا  فقط ہماری بھول ہے۔ زندگی میں حالات بدلتے رہتے ہیں۔  مشکل کے بعد آسانی غم کے بعد خوشی یہی زندگی کی اصل حقیقت اور اس تبدیلی کو قبول کر لینے ہی میں جینے کا اصل مزہ ہے۔  زندگی صرف اس کیلئے ہی حسین اور آسان بن جاتی ہے جو  مشکلوں سے گھبراتا نہیں، راہ میں آنے والے طوفانوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے، ایک مومن کی طرح خدا پر بھروسہ کامل رکھتے ہوئے ہمت ثابت قدمی شجاعت و بہادری سے ان پریشانیوں اور مصائب سے لڑ کر اچھےآنے والے بہتر دنوں کا انتظار کرتا  ہے۔ اور پھر آسانیاں وخوشی بھی صرف اسی کے مقدر میں لکھ دی جاتی ہے جو مایوس نہ ہو نا امید نہ ہو۔  زندگی چونکہ ملی جلی کیفیت کا نام ہے تو کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ دل بے چین ہو کسی کام میں جی نہ لگے،بیزاریت اور اکتاہٹ طاری ہوسکون و خوشی جس کی تلاش میں جتنا پھرو  مگر وہ اتنا ہی دور ہوتا چلا جائے، ایسی صورت میں آخر کیا کیا جائے ؟ ...

مخلوق کی خاطر خالق ناراض نہ ہو

 ہم اکثراس وقت ہارجاتے ہیں جب دو راستوں میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہو۔ اگر ایک  رستہ رب کی  رضا کا ہے اور دوسرے رستے کا انتخاب بندوں کو تو خوش کر سکتا ہے۔مگر رب ناراض ہوجائے تو مومن کا فریضہ ہے وہ اس راہ کا انتخاب کرے جو رب کی رضا کی طرف جاتا ہو۔  ہم اس غلط فہمی میں رہتے ہیں کہ اگر ہم نے رشتے ناراض اور تعلقات خراب کر دیے انہیں راضی رکھنے اور رشتوں کی بقا کے لیے چاہے کچھ بھی ہو کر لینا چاہیے مجبوری ہے اگر رب خفا ہو جائے تو اسے منا لیں گیں وہ رحیم ہے مان جائے گا حقوق العباد بھی عبادت ہے تعلقات نبھانا بھی ضروری ہے تو یہ سراسر منافقت ہے۔  ایک مومن کے لیے سب سے اہم اپنے رب کی اطاعت ہے نافرمانی میں ذلت ہے رسوائی ہے بربادی ہے تباہی ہے  کسی بھی صورت ہم پر واجب نہیں کہ مخلوق کی خوشی کی خاطر خالق کی ناراضگی مول لی جائے ہاں مگر یہ اس کا وعدہ ہے اپنی اطاعت کرنے والوں کو وہ ہر گز تنہا نہیں چھوڑتا  وہ راہ نکالتا ہے آپ اس پر بھروسہ کریں عمدہ اخلاق اورمثبت طرزِ انداز،سے اللہ کی مدد کے ساتھ وہ طریقہ اختیار کریں جس سے رب بھی ناراض نہ ہو اور رشتے بھی بچ جائیں۔ ...

خالی پن۔۔۔۔

 ہم انسان کی یہ فطرت ہے کہ ہم بہت زیادہ کی طلب میں گرفتار ہمیشہ بھرے ہوئے رہنا چاہتے ہیں۔ خالی ہونا ہمیں نہیں پسند اور لفظ خالی سے بھی ہم چڑتےاور بھاگتے نظرآتے ہیں جبکہ  ہمیشہ بھرا رہنا ہی فائدہ مند نہیں ہوتا خالی بھی گوہر ہےاشفاق احمد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ "جیسے بھری ہوئی چیز کا مقام ہےخالی بھی ویسی ہی  اہمیت کا حامل ہے ". جو فوائد اسکی وجہ سے ہمیں نصیب ہوسکتے ہیں اس پر اگرغور کیا جائے تو خالی کی قدرو قیمت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔  وجود کا خالی پن اکثر انسان کو خود احتسابی کی طرف مائل کرتا اپنے رب سے ربط پیدا کرتا اور اس تعلق کو استوار کرتا ہے۔ انسان کا ضمیر بھی اکیلے پن تنہائی میں ہی جا گتا، ملامت کرتا اور اس کی برائیوں وکوتاہیوں سے اسے خبردار کرتا ہے۔ خود شناسی بھی اسی خالی پن کی وجہ سے ممکن ہوتی ہے جب تک انسان تنہا نہیں ہوتاوہ اپنے آپ سے بھی نہیں مل پاتا،غرض تنہائی ہی اسے اپنے آپ سے روشناس کرواتی اور اسےآگاہی دیتی ہےجھگڑے بھی تب ہی  اور زیادہ طول پکڑتے ہیں جب انسان اپنی خطاؤں پر نظر ثانی کے لۓ اکیلے میں اپنے رویئوں پر غور نہیں کرتا۔  مسائل کا حل بھی غور ...

سنتِ نبویﷺکی اہمیت

 مُحّب  کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کا محبوب بھی اسے چاہے اس سے محبت کرے ۔اپنے رب سے محبت اگر ہماری خالص ہوگی تو ہمارے دل میں بھی یہ آرزو یقیناً ہوگی کہ ہم بھی اسکی محبت کے لائق بن جائیں اس کی محبت ہمیں حاصل ہوجائے،اس کا قُرب نصیب ہو اس سے ربط مضبوط ہو جائے، تو جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ رب العزت کی نگاہ میں وہ محبوب بندہ بن جائے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ سنّت کی پیروی کرے۔ کیوں کہ اللہ رب العزت فرماتا ہے۔ " کہہ دیجئے اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو خود اللہ تعالی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا ہے"(آل عمران۳۱)  سنتِ نبویﷺ کی اہمیت،فرضیت فضیلت کو جاننے سے پہلے ضروری ہے کہ سنت  کے اصطلاحی مفہوم کو جانا جائے۔ لفظ سنت کے لغوی معنی ہیں "طریقہ"۔سنت نبویﷺ یعنی "رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ"۔  آپﷺ کی حیات طیبہ کے تمام اعمال میں آپﷺ کا ہروہ طریقہ  جو آپ نے اپنایا اور زندگی کے تمام امور جس طریقے سے انجام دیے اسی طریقیت کے مطابق ہمیں اپنی زندگی کو ڈھالنا سنت کی پیروی کرنا ہے۔  اتّباعِ سنت...

حضرت زینب بنت خزیمہؓ۔۔۔۔

آپ کا یہ اعزاز و شرف کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہا سرورِ کونین، رحمت اللعالمین، سردار الانبیاء اور رسول و محبوبِ خدا حضرت محمدﷺ کی "ازواجِ مطہرات "میں شامل تھیں۔ اور وہ خوش قسمت خاتون تھیں جنہوں نے آپؐ کی حیات طیبہ میں ہی اس دارِ فانی سے ربیع الثانی ۴ ہجری  میں  رحلت فرمائی اگرچہ ام المومنین حضرت خدیجؓہ بھی آپ کی زندگی میں ہی رخصت ہوئی مگر، اس وقت نماز جنازہ کا حکم نہیں آیا تھا آپؐ نے خود ان کا جنازہ پڑھایا اور مغفرت کی دعامانگی مدینے ،جنت البقیع میں تمام ازواجِ مطہرات میں،  جو سب سے پہلے مدفون ہوئیں ،وہ آپؐ کی پانچویں زوجہ ام المومنین حضرت زینبؓ بنتِ خزیمہؓ ہیں۔  ولادت نام و نسب   آپ رضی اللہ تعالی عنہ بعثتِ نبویؐ سے تیرہ یا پندرہ سال قبل شہر مکہ میں پیدا ہوئی ،آپؓ کے والد کا نام خزیمہ اور والدہ کا نام ہند بنت عوف بن زہیر بن الحارث بن حماطہ تھا۔ سلسلہ نسب اصحاب سیر نے اس طرح بیان کیا ہے: زینب بنت خزیمہ بن عبداللہ بن عمر بن عبد مناف بن ہلال بن عمار بن عامر صعفعہ بن معاویہ بن بکر بن ہوازن بن منصور بن عکرصہ بن خصفہ بن حنیس بن عیلال الہلا لیہ(...