زبان کے تیر
بعض لوگ طبیتاًاور مزاجاًاتنے سخت بد زبان اوربدمزاج ہوتے ہیں کہ جوبھی ان سے ملے ان کی زبان سے محفوظ نہ رہ پائے ان کی زباں کے تیرنے کتنے ہی دل چھلنی کر دیے قطعہ نظر یہ اس سے بلکل بے خبر وانجان ہوتے ہیں۔۔ لوگوں کی امیدوں کوتوڑنا،ان کے جذبات سے کھیلنا اپنی زبان یا دیگراعضاءسے دوسروں کے لئے اذیت و تکلیف کاباعث بننا یہ خود ایسے لوگوں کے اپنے لئے بھی بے سکونی اوردونوں جہاں کی بربادی کا کام ہے۔ کیوں کہ زبان کی حفاظت ایمان کی حفاظت ہے۔جس نے اسے کنٹرول کرلیا اس سے نکلنے والے نشتر کو روک لیا اس نے اپنا ایمان اوردین محفوظ کرلیا۔۔ ایسے مزاج والے انسانوں سےغالباً ہرایک کا واسطہ پڑتا ہی ہے کیوں کہ جب انسانوں میں خیالات و نظریات کا تضاد ہے تو اپنی مرضی نہ ہونے پر گلہ شکوہ شکایات کی کسر ایسے لوگ ظنز بازی اور تنقید سے پوری کرتے ہیں۔ ہر گھر کی اک کہانی، اور تقریباً ہر گھر میں ہی کوئی نہ کوئی ایسا موجود ہوتا ہے جو زبان کی تیزی کا شکار ہوتا ہے۔ کہیں ساس کی وجہ سے بہو پریشان تو کہیں بہوہی ظالم ہے،کہیں بیوی شوہر کی بد مزاجی سے ہلکان ہے تو کہیں...